صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 175 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 175

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۷۵ ٢٥ - كتاب الحج بھی ابو نعیم ، ابن ابی شیبہ اور ابن ماجہ کی ان روایتوں کی تصحیح مقصود ہے جنہیں علامہ عینی نے بالاستیعاب نقل کیا ہے۔ ان میں یہ الفاظ ہیں: عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَجَّ رَسُولُ اللهِ اللهِ عَلَى رَحْلٍ وَقَطِيفَتُهُ سَوَاءٌ أَوْ قَالَ لَا بِسَواءٍ لَأَرْبَعَةِ دَرَاهِم ۔ ابن ماجہ کے یہ الفاظ ہیں کہ عَلَی رَحْلٍ وَقَطِيفَةٍ تُسَاوِی اَرْبَعَةَ دَرَاهِمَ ۔۔۔۔ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ حَجَّةٌ لَّا رِيَاءَ فِيهَا وَلَا سُمْعَةً ۔ ( عمدة القاری جزء ۹ صفی ۱۳۲) ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۸۰ ) علی بن مدینی نے مقدمی کی روایت تسلیم نہیں کی اور منکر (یعنی غیر معروف ) قرار دی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۴۸۰) غرض امام بخاری نے ان روایتوں کا خلاصہ عنوانِ باب الْحَجَّ عَلَى الرَّحْلِ میں دے کر روایت نمبر ۱۵۱۸ سے اس امر کی مزید تائید کی ہے کہ حج کے لئے پیدل چل کر آنے کی فضیلت کا مسئلہ صحیح نہیں ۔ قارئین امام موصوف کے ان مخصوص تصرفات کو غور سے دیکھتے جائیں جو اُن کا مقصد واضح کرنے کے لئے بطور کلید ہیں۔ باب ۳ کے عنوان کو تین حوالوں سے واو عاطفہ سے وابستہ کیا ہے اور روایت جو اختیار کی ہے۔ اس میں تنعیم سے سوار ہو کر حضرت عائشہ کے حج کرنے کا ذکر ہے۔ اس میں پالان یا ہودہ کا ذکر نہیں اور اس کے بعد جو باب قائم کیا ہے، اس میں حج کی حقیقی فضیلت کا مضمون ہے۔ یعنی ایسا حج جس کی بنیاد طاعت شعاری پر ہو؛ نہ پالان، کجاوہ، ہودہ یا پا پیادگی سفیر سے ۔ زمانہ جاہلیت میں بعض عرب اس عقیدہ کے تھے کہ حج پا پیادہ کرنا چاہیے اور حرم میں سواری پر داخل ہونا خلاف تعظیم سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ دور و نزدیک سے حج کے لئے آنا ہوتا ہے، اس لئے اسلام نے دونوں طرح سفر کی اجازت دی ہے۔ بَاب ٤ : فَضْلُ الْحَقِّ الْمَبْرُوْرِ اس حج کی فضیلت جو سراسر نیکی اور طاعت شعاری پر بنی ہو ١٥١٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۱۵۱۹: عبد العزيز بن عبداله ۱۵۱۹: عبدالعزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا :) عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے، الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ زہری نے سعید بن مسیب سے سعید نے حضرت ابو ہریرہ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نبی علی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ سے پوچھا گیا کہ عملوں میں سے کونسا عمل افضل ہے؟ أَفْضَلُ قَالَ إِيْمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ قِيْلَ آپؐ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ ثُمَّ مَاذَا قَالَ جِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللهِ قِيلَ پوچھا گیا: پھر اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الحج، باب ما يقول الرجل اذا استلم الحجر ، جز ۳۰ صفحه ۴۴۲) ابن ماجه، کتاب المناسک، باب الحج على الرحل)