صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 174 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 174

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۷۴ ٢٥ - كتاب الحج فَأَعْمِرْهَا مِنَ التَّنْعِيمِ فَأَحْقَبَهَا عَلَى اپنی بہن کو لے جاؤ اور انہیں تنعیم سے عمرہ کراؤ۔ نَاقَةٍ فَاعْتَمَرَتْ ۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن نے ان کو اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیا اور پھر انہوں ( حضرت عائشہ) نے عمرہ کیا۔ اطرافه: ٢٩٤، 305، 316، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1556، 1560، 1561، ،١٧، ١٧٦٢۵۷ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱١٥٦٢، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٢٩٨٤، ٤٣٩٥ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ٤٤٠ ، ٤٤٠٨ ، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩ ٦١٥٧، ٧٢٢٩۱ تشریح : الحَجَّ عَلَى الرَّجُلِ : پالان پری کجاوہ میں سوار ہوکر ج کرنے کا ملکہ ثابت کرنا پیش نظر ہیں۔ بلکہ سابقہ ابواب کے مضمون کی مزید تائید مقصود ہے۔ جیسا کہ عنوانِ باب میں قاسم بن محمد کی روایت اور حضرت عمرؓ کے قول کا حوالہ دے کر اصل مقصود کی طرف توجہ منعطف کی ہے۔ تَنْعِیم: مکہ مکرمہ میں حرم سے قریب ترین مقام ہے؟ جہاں سے حضرت عائشہ نے عمرہ کا احرام سوار ہو کر باندھا۔ اگر پیدل چل کر حج کرنے میں فضیلت کا مفہوم آیات قرآن سے نکل سکتا تھا تو حضرت عائشہ تنعیم مقام سے پیدل چلنے کو ترجیح دیتیں ۔ قاسم بن محمد کی جو روایت ابان کے حوالے سے عنوانِ باب میں منقول ہے، وہی اس باب کے تحت بروایت عمرو بن علی فلاس نمبر ۱۵۱۸ میں دہرائی گئی ہے۔ اس لئے قرین قیاس ہے کہ امام بخاری جہاں ضمناً سابقہ باب کے مضمون پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں؛ وہاں عمرو بن علی فلاس والی روایت کی صحیح بھی ان کے مد نظر ہے۔ یہ روایت از روئے تحقیق امام ابن حجر ابونعیم نے مستخرج میں موصولا نقل کی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۴۷۹) اس میں یہ الفاظ ہیں: وَحَمَلَهَا عَلَى قتب ۔ یعنی کجاوہ پر انہیں سوار کیا۔ کتب بمعنى رَجُل ہے ۔ فَاحْقَبَهَا عَلَى نَاقَةٍ کے معنے ہیں اَرْدَف یعنی اپنے پیچھے بٹھایا۔ جس طرح بعض لوگوں نے لفظ رجالا کے مقدم ہونے کی وجہ سے حج کے لئے پیدل چلنے کو ترجیح دی ہے۔ اسی طرح بعض نے روایات میں لفظ قتبِ یا دخل دیکھ کر اس امر کو تر جیح دی ہے کہ پالان پر سوار ہو کر حج کے لئے جانا پسندیدہ ہے۔ کیونکہ اس میں سادگی ہے؛ جو حج کے لئے ضروری ہے اور ہودج و ہودہ میں آرام طلبی ہے۔ مگر امام موصوف نے حضرت عمرؓ کے خطبے کا حوالہ دے کر لفظ دخل کے عام استعمال کی طرف توجہ دلائی ہے جس سے سواری کے اونٹ مراد ہیں ۔ حضرت عمررؓ کا محولہ بالا قول مسند عبدالرزاق میں موصولاً مروی ہے۔ آپ نے ایک خطبہ کے دوران فرمایا: إِذَا وَضَعْتُمُ السُّرُوجَ فَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَى الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُ أَحَدُ الْجِهَادَيْنِ۔ یعنی جب زر ہیں اُتار دو یعنی جنگ سے فارغ ہو تو حج اور عمرہ کے لئے کجاوے باندھو ۔ کیونکہ وہ بھی ایک جہاد ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۴۸۰) یہاں رحال سے مراد راحلہ (سواری) کے اونٹ ہیں۔ ☆ ایک تیسرا حوالہ محمد بن ابی بکر مقدمی کی روایت کا دیا گیا ہے۔ یہ امام بخاری کے اساتذہ میں سے ہیں۔ اس حوالہ سے (مصنف عبد الرزاق، كتاب الجهاد، باب وجوب الغزو ، روایت نمبر ۹۲۸۲ ، جزء ۵ صفحه ۱۷۴)