صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 3 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 3

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٤ - كتاب الزكاة سرکاری لگان اور ٹیکس وغیرہ کی ادائیگی کے باوجود زکوۃ کی ادائیگی کی ضرورت زکوۃ کے تعلق میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ جب افراد کو سرکاری لگان اور ٹیکس دینے پڑتے ہیں تو پھر زکوۃ ادا کرنے کی کیا وجہ باقی رہ جاتی ہے؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ مذکورہ بالا شرائط دنیاوی نظاموں میں نہیں پائی جاتیں۔ اسی لئے ان کے تحت مالی ادائیگیاں زکوۃ کا قائم مقام نہیں ہو سکتیں ۔ سوائے اس ایک صورت کے کہ صاحب نصاب عند الله مالی کا زکوۃ کے بارہ میں رکن اسلام کا پابند قرار پائے۔ اس کے لئے یہ راستہ کھلا ہے کہ اپنی نیت درست کرے اور نصاب کی کے بارہ میں کن کا پابند اس کے لئے یہ راستہ کھلا ہے کہ اپنی نیت درست اور رو سے اپنی آمد کا جائزہ لے اور دیکھے کہ جو ٹیکس اور لگان وغیرہ دنیوی نظام کے تحت دیئے گئے ہیں۔ اگر وہ واجب الادا زکوۃ سے کم ہیں تو باقی ماندہ زکوۃ اپنی آمد سے سال گزرنے پر یا بوقت فصل کٹائی نکالے اور اگر اس کی طرف سے زیادہ ادا ہوا ہو تو یہ زیادتی بطور صدقہ تصور کرے۔ اِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ کیونکہ اسلام کے نزدیک اعمال کی صحت و سقم کا دارومدار نیت وارادہ اور محاسبہ نفس پر ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لقمہ کو بھی صدقہ قرار دیا ہے جو رضاء الہی کی خاطر خاوند اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے ( روایت نمبر ۵۶) اور آپ نے صدقہ کی تعریف بہت وسیع معنوں میں فرمائی ہے۔ ( باب نمبر ۳۰) مذکورہ بالا فتوی کا اطلاق صرف اموال ظاہرہ پر ہوگا نہ اموال باطنہ پر جن کی زکوۃ لگان یا ٹیکس کی ادائیگی کے باوجود صاحب نصاب پر بہر حال واجب ہوگی۔ اس تعلق میں ملاحظہ ہو روایت نمبر ۱۴۲۰ نیز باب ۱۲، ۱۳، ۴۹۔ ملی و ملکی اغراض کے لئے نظام مالیات کی بنیاد اور اس میں وسعت: صلى الله لاوہ ازیں اسلام نے انفاق فی سبیل اللہ کو صرف زکوۃ پر ہی منحصر نہیں رکھا۔ بلکہ طوعی صدقات کا وسیع دروازہ بھی کھولا ہے۔ جیسا کہ قارئین پر کتاب الزکوۃ کے مطالعہ سے یہ امر خود بخود ظاہر ہو جائے گا۔ دراصل زکوۃ کا تعلق عام حالات سے ہے۔ استثنائی حالات کی نزاکت کے پیش نظر اسلام نے ایک اور قانون جاری فرمایا ہے۔ جس کا منشاء و مقصد نفس نفیس کی زیادہ سے زیادہ قربانی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمُ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة : (11) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس وعدہ کے ساتھ خرید لئے ہیں کہ انہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی۔ اس قسم کی غیر معمولی قربانی کی تلقین قرآن مجید میں جابجا کی گئی ہے اور آنحضرت علی اور صحابہ کرام رضوان ! رضوان اللہ علیہم نے اس انتہائی قربانی کا نمونہ پیش فرمایا جس کی نظیر کہیں نہیں ملتی اور علماء نے اپنی تشریحات میں اسلام کے اس استثنائی قانون انفاق کو صراحت سے بیان کیا ہے۔ چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی علیہ الرحمۃ جو اپنے زمانہ کے مجد دتھے فرماتے ہیں کہ غیر معمولی حوادث کے تدارک کے لئے ضروری ہے کہ علاوہ زکوۃ کے انفاق فی سبیل اللہ کا انتظام کیا جائے اور آپ نے اس کی وجہ ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے:۔ السِّرُّ فِي ذَلِكَ أَنَّ الْحَاجَاتِ غَيْرُ مَحْصُورَةٍ وَلَيْسَ فِي بَيْتِ الْمَالِ فِي الْبَلَادِ الْخَالِصَةِ لِلْمُسْلِمِينَ غَيْرَ الزَّكُوةِ كَثِيرُ مَالٍ فَلَا بُدَّ مِنْ تَوَسُّعِهِ لِتَكْفِي نَوَائِبَ الْمُدَنِيَّةِ۔ (حجة الله البالغة، من ابواب الزكاة، جزء ٢)