صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 172
صحيح البخاری جلد۳ ۱۷۲ ٢٥ - كتاب الحج ١٥١٥ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۱۵۱۵ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ سَمِعَ ( کہا: ) ولید نے ہمیں بتایا، ( کہا: ) اوزاعی نے ہم عَطَاءً يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ سے بیان کیا کہ انہوں نے عطاء بن ابی رباح ) سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ إِهْلَالَ رَسُوْلِ اللَّهِ سنا۔وہ حضرت جابر بن عبد اللہ (انصاری) رضی اللہ عنہما صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ سے روایت کرتے تھے۔(انہوں نے بیان کیا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ سے احرام حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتَهُ رَوَاهُ أَنَسٌ باندھا۔جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ۔کھڑی ہو گئی۔یہ بات حضرت انس اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے بھی روایت کی۔تشریح: يَأْتُوكَ رِجَالًا وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ : استطاعت سبیل کی مزید وضاحت مذکورہ بالا آیت سے کی گئی ہے۔خواہ پیدل سفر کرنے کی توفیق ہو یا سوار ہو کر۔اسحاق بن راھویہ اور ان جیسے فقیہوں نے مذکورہ بالا آیت میں رِجَالًا پہلے مذکور ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ حج کے لئے پیدل جانا افضل ہے۔( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۷۸) امام موصوف نے عنوانِ باب میں فجاج کے لغوی معنے بتا کر اس باب کے مقصود کی طرف توجہ منعطف کی ہے۔یعنی اس میں وسعت ہے؟ کوئی پیدل جائے یا سوار ہو کر۔فجاج کے معنے ہیں وسیع راستہ۔اگر پیدل سفر میں فضیلت ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرور پیدل جاتے۔مگر آپ کی سنت اس کے برعکس ہے۔زمانہ جاہلیت میں عرب حج میں سوار ہو کر آنے کو معیوب سمجھتے تھے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۴۷۸) رَوَاهُ أَنَسٌ وَابْنُ عَبَّاسِ حضرت انسؓ اور حضرت ابن عباس کی محولہ بالا روایات کے لیے روایت نمبر ۱۵۴۶،۱۵۴۵ دیکھئے۔بَابِ : اَلْحَجُّ عَلَى الرَّحْلِ پالان پرسوار ہو کر حج کرنا ١٥١٦ : وَقَالَ أَبَانُ حَدَّثَنَا مَالِكُ :۱۵۱۶ اور ابان نے کہا: مالک بن دینار نے ہمیں ابْنُ دِينَارٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ بتایا۔انہوں نے قاسم بن محمد سے، قاسم نے حضرت عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم