صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 171
صحيح البخاری جلد ۳ 121 ٢٥-كتاب الحج تین شرطوں کے بارے میں نص صریح ہے۔مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ( آل عمران : ۹۸) کی تشریح امام موصوف نے روایت نمبر ۱۵۱۳ سے کی ہے خشمی عورت کے باپ پر فریضہ حج واجب تھا مگر وہ سفر کی طاقت نہ رکھتا تھا۔آپ نے اس کی بیٹی کو اجازت دی کہ وہ اس کی جگہ حج کرے۔گویا استطاعت سبیل سے مراد صرف صحت بدنی اور قدرت سفر ہی نہیں بلکہ مطلق مالی استطاعت ہے۔اگر محض سفر کی طاقت مراد ہوتی تو بوڑھے باپ کو معذور ٹھہرایا جا تا اور وہ فریضہ حج سے سبکدوش ہوتا۔مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیٹی کو اجازت دی کہ وہ اس کی جگہ حج کر سکتی ہے۔اس سے وجوب حج کی نوعیت اور حج کی فضیلت ظاہر ہے۔نماز، زکوۃ اور روزہ ایسی عبادتیں ہیں جنہیں دوسرا شخص کسی کی طرف سے ادا نہیں کر سکتا۔مگر حج نیا بتا بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔باب ۲ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: يَأْتُوكَ رِجَالاً وَ عَلى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ (الحج: ۲۹،۲۸) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: لوگ تیرے پاس آیا کریں۔پیدل بھی اور ہر ایسی سواری پر بھی جو لمبے سفر کی وجہ سے دبلی ہو۔ایسی سواریاں دور دراز گہرے راستوں سے آئیں گی تا آنے والے ان منافع کا مشاہدہ کریں جو ان کے لئے ( مقدر ) ہیں۔فِجَاجًا (الأنبياء:۳۲) الطُّرُقُ الْوَاسِعَةُ فِجَاج کے معنی وسیع راستہ کے ہیں۔١٥١٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيْسَى :۱۵۱۴ احمد بن عیسی نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ عبد الله ) ابن وہب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس شِهَابٍ أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ (بن یزید ) سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ کی کہ سالم بن عبد اللہ بن عمر ) نے ان سے بیان کیا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ که حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذوالحلیفہ میں اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے دیکھا جا ہے وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہونے کو ہوتی تو آپ اللھم لبیک کہتے۔يَرْكَبُ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ يُهِلُ حَتَّىٰ تَسْتَوِيَ بِهِ قَائِمَةٌ۔اطرافه: ١٦٦، ١٥٥٢، ١٦٠٩، ٢٨٦٥، ٥٨٥١ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”حَتَّی کی بجائے ”حِینَ“ ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۴۷۷)