صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 170
صحيح البخاري - جلد۳ 12۔٢٥ - كتاب الحج عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ صلى اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (اونٹ پر ) سوار تھے۔اتنے فَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ مین خشم قبیلہ کی ایک عورت آئی تو فضل اسے دیکھنے وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لگے اور وہ عورت فضل کو دیکھنے لگی اور نبی صلی اللہ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشَّقِّ الْآخَرِ علیہ وسلم نے فضل کا منہ دوسری طرف پھیر دیا۔اس فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ فَرِيْضَةَ اللَّهِ عورت نے کہا: یا رسول اللہ ! فریضہ حج اللہ تعالیٰ کی عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكَتْ أَبِي طرف سے اپنے بندوں پر ایسے وقت میں مقرر ہوا شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ ہے کہ جب میرا باپ بہت بوڑھا ہے۔وہ اونٹنی پر بھی أَفَأَحُجُ عَنْهُ قَالَ نَعَمْ وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ( تم اس کی طرف سے حج الْوَدَاع کرلو) اور یہ واقعہ حجۃ الوداع میں ہوا۔اطرافه ۱۸۵۳، ۱۸٥٤، ۱۸۵۵، ۱۳۹۹، ۶۲۲۸ تشریح: وُجُوبُ الْحَقِّ وَفَضْلُهُ : کتاب الایمان باب ۲، روایت نمبر ۸ میں بتایا جاچکا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے۔جن میں سے چوتھا رکن حج ہے۔اسی ترتیب سے امام بخاری نے محولہ بالا ارکان سے متعلق احادیث جمع کی ہیں۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ نویں ذی الحجہ کو عرفات کے میدان میں جمع ہو کر عصر سے مغرب تک دعا کرنے کا نام حج ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حج کو صرف بیت اللہ کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔آیت وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا ( آل عمران : ۹۸) کی نحوی ترکیب حج کے مفہوم اور بیت اللہ کی اس مرکزی حیثیت کو نمایاں کرتی ہے۔اس لئے امام بخاری نے یہ آیت عنوانِ باب کے لئے اختیار کی ہے۔آیت فَمَنْ حَجَّ البَيْتَ أوِ اعْتَمَرَ۔۔۔۔(البقرة: ۱۵۹) سے بھی واضح ہوتا ہے کہ بیت اللہ ہی حج کا مرکزی نقطہ ہے نہ کہ عرفات۔صفا و مردہ کے درمیان سعی ( دوڑنا ) اور عرفات میں جا کر دعا کرنا صرف ایسی عبادات ہیں جو منی تعلق کی وجہ سے مناسک حج میں شمار کی گئی ہیں۔پہلا باب حج کے وجوب اور اس کی فضیلت سے متعلق قائم کیا گیا ہے۔ائمہ اور فقہاء کے درمیان اتفاق ہے کہ تین شرطیں پائی جانے پر حج فرض ہو جاتا ہے۔سامان سفر، صحت بدنی اور پُر امن راہ۔ان کے علاوہ فقہاء نے اسلام، بلوغت، عقل اور حریت بھی وجوب حج کی شرطوں میں شمار کی ہیں ، جو ظاہر ہیں اور آیت کریمہ میں ضمنا شامل ہیں۔ان میں سے پہلی تین باتیں صحت عمل کے لئے ضروری ہیں۔حریت سے مراد آزادی یعنی تصرفات عمل میں جب تک کوئی اپنے ارادہ کا مالک نہ ہوگا، کوئی کام نہیں کر سکتا۔غیر کے ارادے کا پابند انسان مجبور ہے۔جیسے لونڈی ، غلام۔قرآن مجید کی محولہ بالا آیت پہلی