صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 169 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 169

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۶۹ ٢٥ - كتاب الحج ٢٥- كِتَابُ الْحَجّ 0000000000 اصیلی کی روایت کے مطابق اس کتاب کا نام کتاب المناسک ہے۔ الْمَنَاسِک جمع ہے مَنْسَک کی۔ نَسَكَ بمعنى تَزَهَّدَ وَ تَعَبَّدَ یعنی زہد و عبودیت اختیار کی ۔ نَسَكَ لِلَّهِ أَنْ تَطَوَّعَ بِقُرْبَةٍ وَذَبَحَ لِوَجْهِهِ - یعنی بطیب خاطر ایسے اعمال بجالائے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوئے اور اس کی رضا مندی کے لئے ذبح کیا۔ لفظ منسک ہر ایسے عمل پر اطلاق پاتا ہے جس میں عبودیت اور قربانی کا مفہوم ہو اور اصطلاح شریعت میں المناسک سے مراد ابراہیمی قربانی اور اُس سے وابستہ اعمال ہیں۔ اقرب الموارد - نسک)(لسان العرب - نسک) الحج کے لغوی معنے قصد کرنا، بار بار آنا اور متوجہ ہونا اور اصطلاح شریعت میں بیت اللہ کی زیارت کرنا اور اس سے متعلقہ اعمال ، طواف و غیر بجالانا ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۷۶) بَاب ۱ : وُجُوْبُ الْحَجِّ وَفَضْلُهُ حج کا واجب ہونا اور اس کی فضیلت وَقَوْلُ اللَّهِ : وَلِلهِ عَلَى النَّاسِ اور اللہ تعالی کا فرمانا: اللہ تعالیٰ کے لئے بیت اللہ کا حج حِجَ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ کرنا لوگوں پر فرض ہے۔ یعنی جنہیں وہاں جانے کی سَبِيلًا وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ طاقت ہو اور جو (با وجود قدرت ہو اور جو ( با وجود قدرت کے ) انکار کرے تو عَنِ الْعَلَمِينَ (آل عمران : ۹۸) اللہ تعالی تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ ١٥١٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۵۱۳: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ) کہا :) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سے ، ابن شہاب نے سلیمان بن یسار سے، سلیمان عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت الْفَضْلُ رَدِيْفَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله کی ۔ انہوں نے کہا کہ فضل ( بن عباس ) رسول اللہ