صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 168
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۶۸ ٢٤ - كتاب الزكاة معاشرتی ضروریات خود بخود حل کر سکتی تھیں؛ ایک ایسا عذر ہے جو ہر نقص پر پردہ ڈالنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔مذکورہ بالا مسائل میں کئی ایک واضح مثالیں ایسی ملیں گی جنہیں اگر عقل پر ہی چھوڑا جاتا تو ان کاحل تو در کنار ، عقل کا ان تک پہنچنا ہی ناممکن تھا۔مثلاً برمحل خرچ کرنے کے مواقع ہی جو عام فہم معلوم ہوتے ہیں، لے لئے جائیں اور پھر ان سے متعلق شریعت اسلامیہ کی پیش کردہ تشریحات دیکھی جائیں کہ اس نے عقل کی راہنمائی کر کے اس کے قیاس کے لئے کس قدر وسیع دروازہ کھول دیا ہے۔نیز عقل و ضمیر کا فتویٰ ضرور کچھ نہ کچھ اختلاف اور نقص رکھتا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تشریح میں وہ وحدت نہیں پیدا ہوسکتی جو معاشرے اور نظام جمہوری کے نظم اور ضبط وربط کے لئے ضروری ہے۔پس اسلامی تعلیم کی تفصیلات میں بہت برکات ہیں ان میں سے ایک عظیم الشان برکت یہ ہے کہ وہ اپنے اندر نظام جمہوری کی وحدت قائم رکھنے کے لئے اس کی تمام ضرورتوں کا سامان اکمل واتم طور پر اپنے اندر رکھتا ہے۔جس طرح وہ اصول میں ہماری راہنمائی کرتی ہے، اسی طرح وہ تفاصیل میں بھی ہماری راہنمائی کرتی ہے اور عقل اس کی مدد سے اپنے صحیح قیاس کے لئے ہر شعبہ زندگی و کردار میں اپنے سامنے دروازے کھلے ہوئے پاتی ہے۔عقل اس کی حدود میں پانچ نہیں ہو جاتی۔بلکہ نور و بصیرت اور قوت و طاقت حاصل کرتی ہے۔اس حقیقت کے سمجھنے کے لئے کتاب الزکوۃ ایک بہترین نمونہ ہے۔فقہاء کے اختلافات؛ اجتہاد کی وسعت اور برکت پر تین شہادت ہیں اور یہ اجتہادی اختلاف ارشاد نبوی اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ * کا مصداق ہیں۔مثال کے لئے دیکھیں فقہی اختلاف جس کا باب ۵۶ کی تشریح میں ذکر کیا گیا ہے۔ایک گروہ کا نقطہ نظر بیت المال کے حق میں ہے اور دوسرے گروہ کا نقط نظر صاحب نصاب فرد کے حق میں ہے۔ان میں سے کسی ایک نقطہ نظر کے مطابق عمل کر لینے سے کوئی شخص کسی مؤاخذہ کے تحت نہیں آتا۔(الاسرار المرفوعة في الاخبار الموضوعة، حرف الهمزة ، روایت نمبر ۱۶)