صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 167 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 167

صحيح البخاری جلد ۳ 192 ٢٤ - كتاب الزكاة (دیکھئے باب ۱۳ تا ۱۸) اور صدقہ کی غرض و غایت واضح کی ہے اور اس کا نظام معین شکل وصورت میں پیش کیا ہے۔(دیکھئے باب اتا۵ ) علاوہ ازیں صدقہ سے متعلق بیبیوں ضروری مسائل ایسے ہیں جنہیں دیگر مذاہب نے چھوا تک نہیں۔مگر اسلام انہیں بالوضاحت ایک ایک کر کے لیتا اور ان کا مشترح جواب دیتا ہے۔مثلاً صدقہ کی تعریف ہمیں و عمومیت اور اس کا اطلاق ( باب ۳۰،۲۹،۹،۸ ، ۷۸،۷۷) صدقہ میں کیا نیت ہو ؟ ( کتاب الزکوۃ باب ۶ ، کتاب الایمان باب ۴۱) کس قسم کی اقتصادی حالت میں دیا جائے۔( باب ۲۲۱۸) کس قسم کے مال سے دیا جائے یا نہ دیا جائے۔(باب۷، ۶۶،۶۵،۴۶،۴۵،۲۹،۸) دیتے وقت یا دینے کے بعد نفس کی کیا حالت ہو؟ ( باب۱۰) برمحل اور بر وقت خرچ کرنے کے مواقع کیا کیا ہیں۔( باب ۹،۵، ۱۶،۱۵) کسی قسم کا صدقہ افضل ہے۔(باب) صدقہ دینے میں غیروں کی شرکت کی نوعیت ( باب ۲۶،۲۵) قابل صدقہ اموال کی تقسیم اور ان پر عائد کردہ صدقہ وزکوۃ کی تعیین ( باب ۳۲ تا ۵۶،۵۵،۳۸) محصلین صدقات کو ضروری ہدایات ( باب ۳۳ تا ۳۵، ۳۷، ۳۹ تا ۴۱ ۴۴۰ ، ۴۷، ۴۸ ، ۵۵ ، ۵۷ ۶۳۰ ۶۴) کن محتاجوں کو دیا جائے اور اُن میں سے کسے مقدم رکھا جائے ( باب ۴۴، ۴۷، ۴۸، ۵۳،۵۲،۵۱،۴۹، ۶۷، ۶۸) * کس کو نہ دیا جائے۔( باب ۵ تا ۵۳) زکوۃ عائد ہونے کے لئے کتنی مالی مقدرت ضروری ہے۔( باب ۳۱،۱۸، ۵۶،۳۷) * شرکت کی مختلف صورتیں اور ان سے متعلق اصولی ہدایات ( باب ۳۵،۳۴) اموال صدقہ سے متعلق احتیاط اور اس کی حفاظت و تقسیم کی ذمہ داری ( باب ۲۶،۲۵، ۷ ۵ تا ۶۹،۶۰) صدقہ کی غرض وغاییت ( باب ۶۳۱ ۶۴) زکوۃ کو باطل کرنے والے امور ( باب ۱۹) صدقہ سے متعلق متعدد اسلوب میں ترغیب و تحریص اور ترہیب و انذار ( باب ۹ تا ۱۱، ۱۹ تا ۲۶، ۲۸ تا ۳۰) صدقات سے پیدا ہونے والے نقائص کا تدارک ( باب ۵۰ تا ۵۳ ۶۰ تا۶۲) غرض بیسیوں قسم کے مسائل ہیں، جنہیں اسلام نے بالاستیعاب واضح کیا ہے۔یہ کہنا کہ مذہب سے ان باتوں کا کیا تعلق اور ان کو بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں انسانی عقل، ضمیر اور