صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 167
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۶۷ ٢٤ - كتاب الزكاة ( دیکھئے باب ۱۳ تا ۱۸) اور صدف اور صدقہ کی غرض وغایت واضح کی ہے اور اس کا نظام معین شکل وصورت میں پیش کیا ہے۔ (دیکھئے باب اتا ۵ ) لاوہ ازیں صدقہ سے متعلق بیسیوں ضروری مسائل ایسے ہیں جنہیں دیگر مذاہب نے چھوا تک نہیں ۔ مگر اسلام انہیں بالوضاحت ایک ایک کر کے لیتا اور ان کا مشترح جواب دیتا ہے۔ مثلاً صدقہ کی تعریف قسمیں و عمومیت اور اس کا اطلاق ( باب ۸، ۳۰،۲۹،۹، ۷۸،۷۷ ) صدقہ میں کیا نیت ہو ؟ (کتاب الزکوۃ باب ۶ ، کتاب الایمان باب ۴۱) کسی قسم کی اقتصادی حالت میں دیا جائے ۔ ( باب ۲۲۱۸) کسی قسم کے مال سے دیا جائے یا نہ دیا جائے ۔ ( باب ۷، ۴۵،۲۹،۸، ۶۵،۴۶ ،۶۶ ) دیتے وقت یا دینے کے بعد نفس کی کیا حالت ہو؟ ( باب ۱۰) بر محل اور بر وقت خرچ کرنے کے مواقع کیا کیا ہیں۔ ( باب ۱۶،۱۵،۹،۵) کسی قسم کا صدقہ افضل ہے۔ ( باب (1) صدقہ دینے میں غیروں کی شرکت کی نوعیت ( باب ۲۵ ، ۲۶) قابل صدقہ اموال کی تقسیم اور ان پر عائد کردہ صدقہ و زکوۃ کی تعیین ( باب ۳۲ تا ۵۶،۵۵،۳۸) محصلین صدقات کو ضروری ہدایات ( باب ۳۳ تا ۳۵ ، ۳۷ ، ۳۹ تا ۴ ۴۴ ، ۴۷ ، ۴۸ ، ۵۵ ، ۶۳۰۵۷ ۶۴ ) کن محتاجوں کو دیا جائے اور اُن میں سے کسے مقدم رکھا جائے ( باب ۴۴، ۴۷، ۴۸، ۵۱،۴۹ ۵۲ ۵۳، ۶۸،۶۷) کس کو نہ دیا جائے ۔ ( باب ۵ تا ۵۳) لا زکوۃ عائد ہونے کے لئے کتنی مالی مقدرت ضروری ہے۔ ( باب ۳۱،۱۸، ۵۶،۳۷) شرکت کی مختلف صورتیں اور ان سے متعلق اصولی ہدایات ( باب ۳۵،۳۴) اموال صدقہ سے متعلق احتیاط اور اس کی حفاظت و تقسیم کی ذمہ داری ( باب ۲۶،۲۵، ۵۷ تا ۶۰، ۶۹) صدقہ کی غرض وغایت ( باب ۶۳۱ ۶۴ ) زکوة کو باطل کرنے والے امور ( باب (۱۹) صدقہ سے متعلق متعدد اسلوب میں ترغیب و تحریص اور ترہیب و انذار ( باب ۹ تا ۱۱، ۱۹ تا ۲۶، ۲۸ تا ۳۰) صدقات سے پیدا ہونے والے نقائص کا تدارک ( باب ۵۰ تا ۶۰۰۵۳ تا ۶۲) غرض بیسیوں قسم کے مسائل ہیں، جنہیں اسلام نے بالاستیعاب واضح کیا ہے۔ یہ کہنا کہ مذہب سے ان باتوں کا کیا تعلق اور ان کو بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ ایسی باتیں ہیں جنہیں انسانی عقل، ضمیر اور