صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 166 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 166

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۶۶ ٢٤ - كتاب الزكاة خلاصه کتاب الزكوة امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے فرائض کی بحث کے تحت کتاب الزکوۃ میں صدقہ فطر کے ابواب کو بھی اس لئے شامل کیا ہے کہ ان دونوں میں فرق عموم و خصوص کا ہے۔ایک صدقہ زکوۃ ہے جس کے لئے نصاب اور مستحقین کی خاص حدود مقرر کی گئی ہیں اور دوسرا صدقہ فریضہ فطر جس میں امیر و غریب، چھوٹے بڑے کی کوئی تمیز نہیں رکھی گئی۔نہ یتیم کو ششی کیا گیا۔جو کھانے والا جو، گندم کھانے والا گندم، کھجور پر گزارا کرنے والا کھجور کا صدقہ برابر مقدار میں دے اور یہ صدقہ نماز عید سے قبل دیا جائے گا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى o وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى (الاعلی: ۱۶،۱۵) ترکی کے معنے زکوۃ نکالنے کے بھی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد باری تعالیٰ کی تعمیل۔جہاں تک الفاظ کے ظاہری مفہوم اور ان کی ترتیب کا تعلق ہے۔خود بھی کی اور اپنی امت سے بھی کرائی۔احکام الہی کا پاس جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔انلهم صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّد۔کتاب الزکوۃ کے خاتمہ پر قارئین کی توجہ اس حقیقت کی طرف منعطف کرانا ہے محل نہ ہو گا کہ شریعت اسلامیہ کے احکام اپنے ساتھ کامل تفصیل رکھتے ہیں۔اس کا کوئی حکم ایسا نہیں جو فی ذاتہ کسی پہلو سے ناقص یا مبہم ہو۔آنحضرت ﷺ نے اپنے پاک نمونہ سے ان احکام کو اپنی امت کے لئے ہر طرح سے واضح فرما دیا ہے۔آپ کی شریعت لازیب ایک کامل دستور العمل ہے جس میں حیات بشریہ کی تمدنی و معاشرتی ضروریات اصولا و تفصیلاً بیان کر دی گئی ہیں اور اس کی تشریحات میں اپنے متبعین کو غیر کا محتاج نہیں رکھا۔مثال کے لئے مسائل زکوۃ وصدقات پر ایک سرسری نظر ڈال کر دیکھیں کہ وہ کہاں تک تفصیلی و عملی وضاحت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔توریت و انجیل نے نرسنگے کی آواز کے ساتھ صدقہ دینے کو ریا کاری قرار دیتے ہوئے اعلانیہ صدقہ سے منع کیا ہے۔(متی باب ۶ آیت ۳۲) مگر شریعت اسلامیہ نے جہاں صدقہ میں ریا کاری سے بشدت روکا ہے۔(دیکھئے باب ۷،۶، ۱۰، ۱۷) وہاں موقع محل کے مطابق اعلامیہ کے ساتھ پوشیدہ صدقہ دینے کی بھی تلقین کی ہے۔گویا اس بارہ میں اصلاح نفس و تمدن بشری کی ضرورت کے دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھا ہے۔( باب ۱۲ ۱۳ ۱۴) انجیل کہتی ہے: اس طور سے صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ دایاں کیا دے رہا ہے۔(متی باب ۶ آیت ۴۳) یہ حکم وضاحت طلب ہے اور انجیل میں اس کی کوئی تشریح نہیں۔شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہ حکم دہرایا ہے۔مگر اس کے ساتھ تشریح فرمائی ہے اور اس کی وضاحت میں متعدد ہدایتیں بطور مثال بیان کی ہیں۔تا اس ارشاد کو بآسانی عملی جامہ پہنایا جا سکے۔