صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 165
0000000000 الله ۱۶۵ ٢٤ - كتاب الزكاة صحيح البخاری جلد ۳ يَتْرُكُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ۔ (ترمذى، كتاب الزكاة، باب ما جاء في زكاة مال اليتيم) یعنی یتیم کے سر پرست کو چاہیے کہ وہ یتیم کے مال کو تجارت میں لگائے اور اُسے بے کار نہ رہنے دے کہ صدقہ اُسے کھا جائے۔ امام شافعی کا فتویٰ کہ یتیم کے مال پر زکوۃ فرض واجب ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر ہی مبنی ہے۔ وَاسْتَدَلَّ الشَّافِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى بِقَوْلِهِ اللهُ ابْتَغُوا فِي أَمْوَالِ الْيَتَامَى خَيْرًا كَيْلا تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ أَوْ تَأْكُلَهُ الزَّكَاةُ۔ (المبسوط، كتاب الزكاة، الفصل الرابع، جزء ۲ صفح ١٦٢) امام بخاری کو چونکہ اُن کی شرائط کے مطابق مستند روایت نہیں ملی، اس لئے انہوں نے روایت نمبر ۱۵۱۲ پر ہی اپنے فتوی کی بنیاد رکھی ۔ لی بنیاد رکھی ہے۔ کیونکہ صغیر کا لفظ عام ہے اور یتیم پر بھی اطلاق پاتا ہے اور اطلاق پاتا ہے اور عنوان باب میں صحابہ و تابعین کے فتوئی اور تعامل کا ذکر کر کے مسئلہ معنونہ کی صحت میں قوت پیدا کر دی گئی ہے۔