صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 164
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۶۴ ٢٤ - كتاب الزكاة يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ (قطان) نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ (عمری ) سے مروی عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فَرَضَ ہے کہ انہوں نے کہا: نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ أَوْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع صَاعًا مِنْ تَمْرِ عَلَى الصَّغِيْرِ وَالْكَبِيرِ جَو یا ایک صاع کھجور چھوٹے اور بڑے، آزاد اور وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ۔ غلام پر فرض کیا ہے۔ اطرافه: ١٥٠٣، 1504، 1500 ، 1509، 1511۔ تشريح : صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ : صدقہ فطر میں چھوٹے بڑے بال اور باغ کی تمیز نہیں کی گئی۔ نہ آزاد اور غلام کی اور نہ یتیم کی ۔ اسی سے مسئلہ کی عمومیت ظاہر ہے۔ عنوان باب میں جو حوالے دئے گئے ہیں، ان سے بھی یہی عمومیت ثابت کرنا مقصود ہے اور فقہاء میں سے ایک فریق یعنی احناف کی رائے کا رڈ کیا ہے۔ جنہوں نے نابالغ کو اس لئے مستثنی گردانا ہے کہ عبادت اس پر واجب نہیں اور چونکہ زکوۃ بھی عبادت ہی کی قسم ہے، اس لیے نا بالغ پر واجب نہیں ۔ (بداية المجتهد، كتاب زكاة الفطر، الفصل الثاني فيمن تجب عليه وعمن تجب) مگر ان کا یہ خیال قیاس مع الفارق ہے۔ اگر نا بالغ صاحب نصاب ہو تو اس کا ولی اور سر پرست زکوۃ وصدقہ اُس کے مال سے ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہی حکم یتیم کے اموال پر بھی عائد ہوتا ہے۔ نماز وروزہ کی عبادت سے کم سن بچوں کی معذوری انہیں زکوۃ سے معذور نہیں ٹھہر اسکتی۔ کیونکہ شریعت اسلامیہ نے مربی (Guardian) کا فرض قرار دیا ہے کہ یتیم کا مال تجارت وغیرہ کے ذریعے بڑھائے اور اُس سے اُس کی معیشت کا انتظام کیا جائے ۔ جیسا کہ فرماتا ہے: وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا (النساء : ) ۶) 1 عنوان باب میں بعض صحابہ صحابہ و وتال تابعین کے فتوی کا حوالہ اسی اختلاف کے پیش نظر دیا گیا ہے جو یتیم کے مال میں سے صدقہ نکالنے کے بارے میں فقہاء کے درمیان ہوا ہے۔ زکوۃ ایسا فریضہ ہے کہ وہ کسی فرد سے بوجہ صغرسنی یا یتیمی ساقط نہیں ہو سکتا۔ بچہ بالغ ہو کر اپنے مربی (کفیل و سر پرست ) کے عمل کی تصدیق کر سکتا ہے؟ اگر تصدیق کی ضرورت سمجھی جائے ۔ خود امام ابو حنیفہ نے بھی فتوی دیا ہے کہ یتیم کی زرعی پیداوار پر زکوۃ عشر عائد کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ زرعی پیداوار میں دوسرے لوگوں کی محنت شامل ہے۔ یہی صورت یتیم کے دوسرے اموال کی بھی ہے۔ ذرائع پیداوار سے جس قسم کی دولت پیدا ہوگی اس پر پیدا ہوئی اس پر بہر حال نصاب و شرائط ب و شرائط کے مطابق زکوۃ عائد ہوگی ۔ اگر دولت ن عائد ہوگی۔ اگر دولت نقدی کی صورت میں ہو تو اس دولت کو اسلام بیکار رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ اسے نفع بخش صورت میں کاروبار پر لگانے کی ہدایت کرتا ہے۔ عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ أَنَّ النَّبِيَّ اللهِ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ أَلَا مَنْ وَلِيَ يَتِيمًا لَّهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرُ فِيْهِ وَلَا