صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 2
صحيح البخاری جلد۳ ٢٤ - كتاب الزكاة غرض اسی ترتیب سے شرعی احکام کی بنیاد آیات قرآنیہ پر قائم کی ہے اور پھر ان کے تحت صحیح احادیث کا اندراج بطور تشریح کیا ہے اور ائمہ و فقہاء کے اختلافات بھی ضمناً حل کئے ہیں جن سے اسلام میں اجتہاد کی وسعت اور قدرو قیمت کا پتہ چلتا ہے۔اسلامی نظام زکوۃ وصدقات کی خصوصیات : دوسرا مرجو قارئین کی خاص توجہ کے لائق ہے یہ ہے کہ امام بخاری نے کتاب الزکوۃ۔کے شروع میں اور موقع ومحل کی مناسبت سے جابجا ان امور کا نمایاں طور پر ذکر کیا ہے جو اسلامی نظام مالیات (زکوۃ وصدقات) کے لئے بطور ممیزات ہیں۔یعنی وہ ایسی خصوصیات ہیں جو حکومتوں کے مالی نظام تحصیل سے اسلامی نظام کو اپنی وضع و شکل اور غرض و غایت میں ممتاز کر دیتی ہیں۔یہ ممیزات مجملاً حسب ذیل ہیں :- اول: زکوۃ وصدقہ ان امور میں شامل کئے گئے ہیں جو تعبدی ہیں۔یعنی بطور عبادت اور جن میں رضا وقرب الہی کا حصول مدنظر ہے۔(کتاب الایمان باب ۳۴، کتاب الزکوۃ باب ۲۷) دوم : زکوۃ حقوق العباد میں سے واجب الادا حق شرعی قرار دیا گیا ہے اور اس کی غرض و غایت علاوہ اقتصادی اصلاح کے تزکیہ نفس بھی ہے۔زکوۃ کی مشروعیت میں اخلاقی اور روحانی اعتبارات کو بالخصوص اہمیت دی گئی ہے۔یہاں تک کہ اگر قوم میں ایک فرد بھی غریب نہ ہوتا تو بھی صاحب نصاب پر زکوۃ کی ادائیگی لازمی ہوتی۔( باب نمبر ۳۰،۲۳۱۶) سوم : مختلف قسم کے اموال پرز کو عائد کرنے کی غرض سے آمد کی ایک حد مقرر کی گئی ہے۔جس کے نیچے مال زکوۃ سے مستقلی ہیں۔شرعی اصطلاح میں اس حد کا نام نصاب ہے۔مال جب اس مقررہ حد تک یا اس سے زیادہ ہوتو وہ خاص نسبت سے قابل زکوۃ ہوگا ورنہ نہیں۔نصاب کی تعیین میں صاحب نصاب افراد کی اپنی ضروریات زندگی کا تحفظ ویسا ہی ملحوظ رکھا گیا ہے جیسا کہ زکوۃ عائد کرنے میں غریب طبقہ کے افراد کی ضروریات زندگی کا تحفظ۔مثلاً غلہ جات کا نصاب پانچ وسق ہے جو کم از کم اکیس من کے برابر ہوتا ہے۔کسی ایک قسم کے اناج کی یہ مقدار ایک کنبے کے لئے بالعموم کافی ہے۔وعلی هذا القياس دیگر اموال ظاہرہ کا نصاب بھی اس طرح پر مقرر کیا گیا ہے۔(دیکھئے ابواب نصاب ۳۱ سے ۵۸ تک ) چہارم : اسلامی نظام صدقات وزکوۃ اپنے اندر بڑی وسعت اور لچک رکھتا ہے۔کیا بلحاظ استفادہ یعنی قابل زکوۃ اموال کے اعتبار سے جو اسلامی نظام مالیات کے لئے بطور سر چشمہ ہیں اور کیا بلحاظ افادہ یعنی مواقع صرف و انفاق فی سبیل اللہ کے۔(باب نمبر ۴۹،۲۹) پنجم : مصارف زکوۃ کی آٹھ قسمیں مقرر کی گئی ہیں۔جن میں سے پہلی قسم محتاج افراد کو ابتدائی ضروریات زندگی مہیا کرنے سے متعلق ہے اور آخری قسم انفاق فی سبیل اللہ ہے جو اجتماعی عملی وملکی ضروریات پر حاوی ہے۔تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوں ابواب ۱۴ تا ۱۶، ۴۹،۲۴۱۸)