صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 163
صحيح البخاری جلد۳ 147 ٢٤ - كتاب الزكاة میں دیا ہے۔حنفیوں کی دلیل یہ ہے کہ جب غلاموں کی زکوۃ نکالی جاتی ہے تو پھر زکوۃ فطر نکالنے کی ضرورت نہیں۔ایک ہی مال پر دوز کو تیں عائد نہیں ہوتیں۔(فتح الباری جز ۲۳۰ صفحہ ۴۷۳) نافع حضرت ابن عمر کے مسلم غلام تھے۔حضرت ابن عمر اُن کی اور ان کے بچوں کی طرف سے صدقہ فطر دیا کرتے تھے۔باب اے میں اس امر کی تصریح ہے کہ صدقہ فطر مسلمانوں پر فرض ہے۔اگر غلام اور لونڈی مسلمان ہوں تو اُن پر بھی صدقہ فطر فرض ہے اور مالک کو چاہیے کہ جیسا کہ وہ اُن مملوکہ اشخاص پر جو تجارت کی غرض سے ہوں ؛ زکوۃ ادا کرتا ہے؛ اسی طرح وہ صدقہ فطر بھی ادا کرے۔كَانُوا يُعْطُونَ لِلْجَمْعِ لَا لِلْفُقَرَاءِ امام بخاری نے روایت نمبر ۱۵۱۱ کے آخر میں واردشدہ الفاظ يُعْطِيْهَا الَّذِينَ يَقْبَلُوْنَهَا سے مراد لین لئے ہیں۔( لفظ قبل لفظ قبض کے معانی میں ہے۔) امام ابن حجر نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں امام وصولی کرنے کے لیے مقرر کرے اور بتایا ہے کہ یہ صدقہ فطر بھی محتاجوں میں تقسیم کرنے کے لئے جمع کیا جاتا تھا۔لوگ براہ راست محتاجوں کو نہ دیتے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۷۴) اس تعلق میں مؤطا امام مالک، کتاب الزكاة، باب وقت إرسال زكاة الفطر نيز بخارى، كتاب الوكالة، باب اذا و كل رجلا فترك الوكيل شيئا بھی ملاحظہ ہو۔مسلمان اب اسلام کے ان احکام، ان کی غرض و غایت اور اسوہ آنحضرت ﷺ اور تعامل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھول بیٹھے ہیں۔زکوۃ اور صدقہ فطر جو ایک نظام کے تحت جمع اور تقسیم ہوتا تھا، اُسے ایسے طور سے دینا شروع کر دیا ہے کہ قوم کی حالت بجائے اصلاح پذیر ہونے کے بگڑ گئی ہے اور زکوۃ وصدقہ و خیرات کا موجودہ طریق فقیروں کی تعداد بڑھانے کا باعث بن گیا ہے۔اس میں طریق مسنون کو بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔باب ۷۸: صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيْرِ وَالْكَبِيْرِ صدقہ فطر چھوٹے اور بڑے پر {قَالَ أَبُو عَمْرٍو وَرَأَى عُمَرُ وَ عَلِيٌّ ابوعمرو نے کہا: حضرت عمرؓ، حضرت علی، حضرت وَابْنُ عُمَرَ وَجَابِرٌ وَعَائِشَةُ وَطَاوِسٌ ابن عمرؓ، حضرت جابرؓ، حضرت عائشہ طاؤس، عطاء وَعَطَاءٌ وَابْنُ سِيْرِيْنَ أَنْ يُزَكَّى مَالُ اور ابن سیرین کی رائے تھی کہ یتیم کے مال سے بھی الْيَتِيمِ وَقَالَ الزُّهْرِيُّ يُزَكَّى مَالُ زکوۃ دی جائے اور زہری نے کہا: مجنون کے مال الْمَجْنُونِ } سے بھی زکوۃ دی جائے۔} ١٥١٢: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۵۱۲ مدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) سکی ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۴۷۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔