صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 162
صحيح البخاري - جلد۳ ۱۶۲ ٢٤ - كتاب الزكاة النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں صَدَقَةَ الْفِطْرِ أَوْ قَالَ رَمَضَانَ عَلَی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر۔یا یوں الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالْحُرِ وَالْمَمْلُوكِ کہا: صدقہ رمضان- مرد اور عورت، آزاد اور غلام پر صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرِ فَعَدَلَ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کا فرض کیا ہے۔پھر لوگوں نے گیہوں کا آدھا صاع اس کے برابر قرار النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ دیا۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کھجور دیا کرتے تھے۔اللَّهُ عَنْهُمَا يُعْطِي التَّمْرَ تب مدینہ والوں کے پاس کھجور کے درخت کم ہو گئے فَأَعْوَزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى تو وہ جو دینے لگے اور حضرت ابن عمر چھوٹے اور شَعِيْرًا فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِيْ عَنِ بڑے کی طرف سے صدقہ فطر دیا کرتے تھے۔یہاں الصَّغِيْرِ وَالْكَبِيْرِ حَتَّى إِنْ كَانَ يُعْطِي تک کہ وہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے عَنْ بَنِيَّ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ الله اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ ان لوگوں کو دیا عَنْهُمَا يُعْطِيْهَا الَّذِيْنَ يَقْبَلُوْنَهَا وَكَانُوا کرتے تھے جو اُسے وصول کرتے اور صحابہ عید سے يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ۔ایک یا دو دن پہلے دیا کرتے تھے۔{قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بَنِيَّ يَعْنِي كَانُوا { ابو عبد الله ( بخاری ) نے کہا: میرے بیٹوں سے مراد بَنِي نَافِعِ قَالَ كَانُوا يُعْطُونَ لِلْجَمْعِ لَا نافع کے بیٹے ہیں۔امام بخاری نے کہا: وہ صدقہ اکٹھا لِلْفُقَرَاءِ۔* } ہونے کے لئے دیا کرتے تھے نہ کہ محتاجوں کو۔} اطرافه ۱۵۰۳، ۱۵۰، ۱۵۰۷، ۱۵۰۹، ۱۵۱۲۔تشریح: جدا ہے۔وہاں نہ صرف یہ ذکر ہے کہ صدقہ فطر تمام مسلمانوں پر علی الاطلاق فرض ہے بلکہ اس بارے میں روایت کی تحقیق بھی مد نظر تھی۔مگر یہاں ایک اور فقہی اختلاف کو مد نظر رکھ کر عنوان قائم کیا گیا ہے۔جیسا کہ وَقَالَ الزُّهْرِئُ۔۔۔۔کہ کر توجہ اس اختلاف کی طرف منعطف کی ہے۔باب ۴۶ میں گزر چکا ہے کہ گھر کے غلام، لونڈی پر کوئی زکوۃ نہیں۔لیکن تجارت کے لئے جو غلام، لونڈیاں ہوں؟ کیا مالک قطع نظر اس سے کہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ؛ ان کی طرف سے بھی صدقہ فطر ادا کرے یا نہ کرے؟ یہ مسئلہ ہے جس کا جواب جمہور نے اثبات میں اور احناف ، امام مخفی اور امام ثوری نے نفی صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى الْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ : بابے کا مضمون باب اے کے مضمون سے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ہیں۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۴۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔