صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 159
صحيح البخاری جلد۳ ۱۵۹ بَاب ٧٤: صَدَقَةُ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ صدقہ فطر ایک صاع کھجور ٢٤ - كتاب الزكاة ١٥٠٧: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۱۵۰۷ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، کہا :) ( حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے روایت کی أَمَرَ النَّبِيُّ له بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ که حضرت عبداللہ بن عمر) نے کہا کہ نبی ﷺ نے تَمْرِ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرِ قَالَ عَبْدُ اللهِ والله زكوة فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو دینے کا حکم فَجَعَلَ النَّاسُ عِدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ۔دیا۔حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے لوگوں نے دومد گیہوں (ایک صاع جو ) کے برابر مقرر کئے۔اطرافه ۱۵۰۳، ۱۵۰، 15۰۹، 1511، 1511۔بَابِ ٧٥: صَاعٌ مِنْ زَبِيْبٍ ایک صاع کشمش ١٥٠٨ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُنِيرٍ :۱۵۰۸ عبد اللہ بن منیر نے ہم سے بیان کیا کہ سَمِعَ يَزِيْدَ الْعَدَنِيَّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ انہوں نے یزید (بن ابی حکیم) عدنی سے سنا۔زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ (انہوں نے کہا: ) سفیان (ثوری ) نے ہمیں بتایا۔عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدِ زید بن اسلم سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: عیاض الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُعْطِيْهَا بن عبد اللہ بن سعد ) بن ابی سرح نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِّنْ تَمْرٍ أَوْ میں (صدقہ فطر) ایک صاع اناج کا یا ایک صاع صَاعًا مِّنْ شَعِيْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيْبٍ کھجور کا یا ایک صاع جو کا یا ایک صاع کشمش کا دیا فَلَمَّا جَاءَ مُعَاوِيَةُ وَجَاءَتِ السَّمْرَاءُ کرتے تھے۔جب معاویہ آئے اور گندم بھی آئی تو قَالَ أُرَى مُدًّا مِّنْ هَذَا يَعْدِلُ مُدَّيْنِ۔حضرت ابوسعید کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ اس گندم) کا مد ( اناج کے ) دو مد کے برابر ہے۔اطرافه ١٥٠٥، ١٥٠٦، ١٥١٠۔