صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 1 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 1

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٤ - كتاب الزكاة ٢٤ - كِتَابُ الزَّكَاة 0000000000 ترتیب ابواب پر ایک نظر : كتابالزکوۃ میں بھی امام باری رحمۃ اللہ علہ نے اپنا سابقہ طریق ملحوظ رکھا ہے کہ قرآن مجید کی آیات کو شرعی احکام کی اصل بنیاد قرار دے کر مستند احادیث کے ذریعہ سے ان کی تشریح کی ہے اور ضمناً ائمہ و فقہاء کے اختلاف پر تبصرہ کر کے اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ قارئین اس کتاب کے شروع سے آخر تک دیکھیں گے کہ موقع محل کی مناسبت سے ایک خاص ترتیب میں باب کا عنوان کسی نہ کسی آیت سے قائم کیا گیا ہے جو بطور اصل الاصول ہے اور پھر اس کے تحت روایتیں نقل کی گئی ہیں۔ بالعموم ایسے اصولی ابواب میں بعض اوقات صرف آیت کے اندراج پر ہی اکتفا ہے۔ شارحین کا خیال ہے کہ ایسے ابواب کے ضمن میں کسی روایت کا درج نہ کرنا اس لئے ہے کہ امام موصوف کو آیت مندرجہ کی تائید میں کوئی مستند روایت دستیاب نہیں ہوئی ۔ مگر شرح کرتے ہوئے ۔ جابجا ان کے اس خیال کا درست نہ ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔ در حقیقت ایسے باب بطور اصل ہیں اور پھر اس کے تحت ضمنی ابواب قائم کر کے وضاحت کے لئے متعلقہ احادیث لائی گئی ہیں ۔ مثلاً ” بابا “ سے باب ۵ تک وجوب زکوٰۃ کا مضمون ہے اور باب نمبر ۶ ۷ میں مسئلہ صدقہ و زکوٰۃ سے متعلق سلبی پہلو سے بحث کی گئی ہے۔ یعنی ان میں ایسے امور کا ذکر کیا گیا ہے جو صدقہ و زکوۃ کو باطل کر دیتے ہیں۔ جیسے حرام کے مال یا ریا کاری کی نیت سے صدقہ دینا۔ یہ سلبی صورت پیش کرنے کے بعد باب نمبر ۸ میں صدقہ وزکوۃ کی مثبت اور مقبول صورت پیش کی گئی ہے۔ اس مضمون سے متعلق باب نمبر ۹ تا اتک کے عنوان اور حوالہ جات ہیں۔ پھر ایک اور اصولی آیت کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دو علیحدہ علیحدہ باب (صدقة الاعلانية اور صدقة السر ) قائم کئے ہیں اور ان میں کسی الگ آیت کا حوالہ نہیں دیا۔ لیکن مابعد کے ابواب اور روایتوں کو ترتیب دے کر یہ مضمون باب نمبر ۱۹ پر ختم کیا ہے اور پھر باب نمبر ۲۱ تا ۲۷ میں صدقہ سے متعلق متفرق ہدایات بیان کرنے کے بعد ایک عنوان بحوالہ آیت کریمہ و حدیث قائم کر کے سابقہ ابواب کے مضمون انفاق فی سبیل اللہ کو نمایاں کر دیا ہے۔ اس کے بعد پھر ایک اور اہم عنوان سے باب نمبر ۲۹ قائم کیا ہے۔ جس کا تعلق اصولی طور پر مصادر ز کوۃ وصدقہ سے ہے۔ اس میں بھی صرف ایک آیت درج کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ لیکن اس کے بعد باب ۳۱ سے ۴۴ تک کا تعلق واضح طور پر نفس مضمون ۔ مون سے ہے اور باب ۴۶،۴۵ میں جاندار مملوکہ اشیاء میں سے غلام اور گھوڑوں کا ذکر ہے کہ وہ زکوۃ سے مستثنیٰ ہیں۔ باب نمبر ۴۹ میں پھر آیت درج کر کے باب ۵۳ تک مصارف زکوۃ وصدقہ میں قرآنی احکام کی وضاحت کی گئی ہے اور اس کے بعد باب نمبر ۵۴ میں زرعی پیداوار پر زکوۃ کا مضمون بیان کیا ہے۔