صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 154 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 154

صحيح البخاری جلد ۳ الولد ٢٤ - كتاب الزكاة موصولاً منقول ہے۔ (دیکھئے بخاری، کتاب الطب، باب الدواء بألبان الإبل، روایت نمبر ۵۶۸۵) ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۶۲) ابن السبیل کے تعلق میں ایک تو وہ صورت ہے جو روایت نمبر ۱ ۱۵۰ میں بیان ہوئی ہے۔ اسی شق میں سفر کی سہولت کے لئے سڑکوں، پلوں اور مسافر خانوں کی تعمیر ، کنوئیں بنوانا، حفاظتی چوکیاں قائم کرنا تا سفر پر امن ہو سکیں ، ادارہ سیاحت کا قیام تا دوسرے ممالک میں آنے جانے میں آسانیاں پیدا ہوں اور ایک دوسرے سے فائدہ اُٹھانے کے مواقع اپنوں اور غیروں کے لئے بہم پہنچیں ۔ اسلامی حکومتوں نے ا۔ نے اپنے وقت میں یہ سب کام کئے۔ کام کئے۔ شیر شاہ سوری کی یادگار جرنیلی سڑک پشاور سے کلکتہ تک اب تک موجود ہے جس پر جا بجا باؤلیاں ( یعنی پکے کنویں) اور سرائیں بنائی گئیں اور محافظین کا انتظام بھی قافلوں کے لئے ہوتا تھا۔ بَاب ٦٩ : وَسْمُ الْإِمَامِ إِبِلَ الصَّدَقَةِ بِيَدِهِ صدقہ کے اونٹوں کو امام کا اپنے ہاتھ سے داغنا ١٥٠٢ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۱۵۰۲ : ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا ، (کہا) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو ولید بن مسلم ) نے ہم سے بیان کیا، ( کہا:) ابو عمرو الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا:) اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے مجھے بتایا۔ ( کہتے مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَدَوْتُ إِلَى تھے ) کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا، کہا: میں صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ عبد اللہ بن ابی طلحہ کو لے کر گیا تا آپ اس کو ٹھٹی اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ فَوَافَيْتُهُ فِي ہیں۔ میں نے آپ کو پایا کہ آپ کے ہاتھ میں داغ يَدِهِ الْمِيسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ۔ دینے کا آلہ تھا۔ آپ صدقہ کے اونٹوں کو داغ دے اطرافه: ٥٥٤٢، ٥٨٢٤۔ رہے تھے۔ تشريح : وَسُمُ الْإِمَامِ إِبِلَ الصَّدَقَةِ بِيَدِهِ : یہ باب بھی ہی بات ذہن نشین کرانے کی غرض سے قائم کیا گیا ہے کہ صدقہ کی حفاظت اور اس کی تقسیم سے متعلق اہتمام اہتمام رکھنا در حقیقت امام کے فرائض میں سے ۔ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھ سے صدقہ کے جانوروں کو نشان (مرا سے داغا کرتے تھے۔ مبادا وہ دوسرے جانوروں سے مل جائیں اور شناخت کرنے میں دقت ہو یا کوئی شخص صدقہ دینے کے لئے اسے خریدے۔ خلفائے راشدین بھی آپ کے اسی اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر سے متعلق مروی ہے : رَأَى رَجُلٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ