صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 154
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۵۴ ٢٤ - كتاب الزكاة موصولاً منقول ہے۔(دیکھئے بخاری، کتاب الطب، باب الدواء بألبان الإبل، روایت نمبر ۵۶۸۵) ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۶۲) ابن السبیل کے تعلق میں ایک تو وہ صورت ہے جو روایت نمبر ۱ ۱۵۰ میں بیان ہوئی ہے۔اسی شق میں سفر کی سہولت کے لئے سڑکوں ، پلوں اور مسافر خانوں کی تعمیر، کنوئیں بنوانا، حفاظتی چوکیاں قائم کرنا تا سفر پر امن ہوسکیں ، ادارہ سیاحت کا قیام تا دوسرے ممالک میں آنے جانے میں آسانیاں پیدا ہوں اور ایک دوسرے سے فائدہ اُٹھانے کے مواقع اپنوں اور غیروں کے لئے بہم پہنچیں۔اسلامی حکومتوں نے اپنے وقت میں یہ سب کام کئے۔شیر شاہ سوری کی یادگار جرنیلی سڑک پشاور سے کلکتہ تک اب تک موجود ہے جس پر جا بجا باؤلیاں ( یعنی پہلے کنویں ) اور سرائیں بنائی گئیں اور محافظین کا انتظام بھی قافلوں کے لئے ہوتا تھا۔بَاب ٦٩ : وَسْمُ الْإِمَامِ إِبِلَ الصَّدَقَةِ بِيَدِهِ صدقہ کے اونٹوں کو امام کا اپنے ہاتھ سے داغنا ١٥٠٢ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۱۵۰۲: ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا ، (کہا:) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو وليد بن مسلم) نے ہم سے بیان کیا، (کہا ) ابوعمرو الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا:) اللهِ بن أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے مجھے بتایا۔( کہتے تھے ) کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَدَوْتُ إِلَى بتایا، کہا: میں صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ عبداللہ بن ابی طلحہ کو لے کر گیا تا آپ اس کو گھٹی اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ لِيُحَنِّكَهُ فَوَافَيْتُهُ فِي دیں۔میں نے آپ کو پایا کہ آپ کے ہاتھ میں داغ يَدِهِ الْمِبْسَمُ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ۔دینے کا آلہ تھا۔آپ صدقہ کے اونٹوں کو داغ دے اطرافه ٥٥٤٢، ٥٨٢٤ رہے تھے۔تشریح : وَسُمُ الْإِمَامِ إِبِلَ الصَّدَقَةِ بِیدہ : یہ بابھی بھی بات ذہن نشین کرانے کی غرض سے قائم کیا بِيَدِهِ گیا ہے کہ صدقہ کی حفاظت اور اس کی تقسیم سے متعلق اہتمام رکھنا درحقیقت امام کے فرائض میں سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے ہاتھ سے صدقہ کے جانوروں کو نشان (مرا سے داغا کرتے تھے۔مبادا وہ دوسرے جانوروں سے مل جائیں اور شناخت کرنے میں دقت ہو یا کوئی شخص صدقہ دینے کے لئے اسے خریدے۔خلفائے راشدین بھی آپ کے اس اسوہ حسنہ پر عمل کرتے تھے۔چنانچہ حضرت عمر سے متعلق مروی ہے : رَأَى رَجُلٌ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ