صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 153
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۵۳ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ٦٨ : اِسْتِعْمَالُ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَأَلْبَانِهَا لِأَبْنَاءِ السَّبِيْلِ مسافروں کے لئے صدقہ کے اونٹوں اور ان کے دودھ کا استعمال کرنا ١٥٠١ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۱۵۰۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) تکی (قطان) عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ نے ہمیں بتایا کہ شعبہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا :) اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِّنْ عُرَيْنَةَ اجْتَوَوُا قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے الْمَدِينَةَ فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی ہوئے ہمیں بتایا کہ عرینہ کے کچھ لوگوں نے مدینہ کی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوْا إِبِلَ الصَّدَقَةِ آب و ہوا کو موافق نہ پایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَيَشْرَبُوْا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَقَتَلُوا نے ان کو اجازت دی کہ وہ صدقہ کے اونٹوں میں چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پیئیں۔انہوں نے الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوُا الدَّوْدَ فَأَرْسَلَ چرواہے کو مار ڈالا اور اونٹ ہانک کر لے گئے۔رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سواروں کو ) ان کے بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ بیچے بھیجا۔ان کو لایا گیا اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَعَضُّونَ ڈالے اور ان کی آنکھیں نکال دی گئیں اور انہیں الْحِجَارَةَ۔تَابَعَهُ أَبُو قِلَابَةَ وَحُمَيْدٌ پتھریلی زمین میں چھوڑ دیا۔جہاں وہ پتھروں پر دانت مارتے۔( قتادہ کی طرح ) ابوقلابہ حمید اور ثابت نے وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ۔بھی حضرت انس سے یہی بات بیان کی ہے۔اطرافه ۲۳۳، ۳۰۱۸، ۱۱۹۲، ٤۱۹۳، ٤٦١٠، ٥٦٨٥، ٥٦٨٦، ٥٧٢٧، ٦٨٠٢، ۶۸۹۹ ،۶۸۰۰ ،۶۸۰٦٨٠٣، ٤ تشریح: کہ کسی کو کلیۂ دے دی جائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اصل مال محفوظ رکھتے ہوئے اس کے منافع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ضرورت مندوں کو دیا جائے۔اس دوسری صورت کی طرف توجہ منعطف کرانے کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔واقعہ مذکورہ بالا کی تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب الوضوء - روایت نمبر ۲۳۳۔جہاں یہ روایت ابوقلابہ سے مروی ہے۔حمید سے امام مسلم ، نسائی اور ابن خزیمہ نے یہی روایت موصول نقل کی ہے۔ثابت کی روایت کتاب الطب میں (مسلم، كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب حكم المحاربين والمرتدين) اسْتِعْمَالُ إِبِلِ الصَّدَقَةِ وَالْبَانِهَا لَابْنَاءِ السَّبِيلِ : تقسیم زکوۃ کی ایک تو یہ صورت ہے (نسائی، کتاب تحريم الدم ذكر اختلاف الناقلين لخبر حميد عن انس بن مالک فیه)