صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 155
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۵۵ ٢٤ - كتاب الزكاة يَهْنَأُ بَعِيرًا مِّنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لَهُ يَغْفِرَ اللهُ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَهَلْ أَمَرْتَ عَبْدًا مِّنْ عَبِيدِ الصَّدَقَةِ يَكْفِيكَ هَذَا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَالَ وَأَيُّ عَبْدٍ هُوَ أَعْبَدُ مِنِّى إِنَّهُ مَنْ وَلِيَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ لِلْمُسْلِمِينَ يَجِبُ عَلَيْهِ لَهُمْ مَا يَجِبُ عَلَى الْعَبْدِ لِسَيِّدِهِ مِنَ النَّصِيحَةِ وَأَدَاءِ الْإِمَانَةِ۔ عظمة الاسلام - تالیف محمود مهدی الاستانبولی، حاشیه صفحه ۶۱ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اسوۂ حسنہ میں ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ زکوۃ بیت المال کا حق ہے اور اس کی حفاظت اور مصرف کا ذمہ دار خود امام یعنی خلیفہ وقت ہے۔ باب ۶۷ کے بعد یہ دو باب قائم کرنے سے یہی بات ذہن نشین کرانا مقصود ہے۔ احناف میں سے بعض نے صدقہ کے جانور داغنا مکروہ گردانا ہے کیونکہ ایک دوسری روایت میں جانور کو دکھ دینے کی ممانعت کے بارے میں تصریح ہے۔ امام ابن حجر کا خیال ہے کہ اس لئے امام موصوف نے یہ باب قائم کیا ہے ۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۴۶۲) ممکن ہے یہ غرض بھی مد نظر ہو۔ مگر عنوان باب امام کے ذاتی اہتمام پر بالوضاحت دلالت کرتا ہے۔ 00000