صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 150
صحيح البخاري - جلد ٣ ۱۵۰ ٢٤ - كتاب الزكاة عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ أَبِي سے ، ابن شہاب نے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن سَلَمَةَ بْن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي عبد الرحمان سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ نے هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَجْمَاءُ جانور سے جو نقصان پہنچے ، اُس کا تاوان نہیں۔اسی ، جُبَارٌ وَالْبِئرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ طرح کنواں بھی قابل تاوان نہیں اور کان بھی قابل تاوان نہیں اور مال دفینہ میں پانچواں حصہ ہے۔وَفِي الرِّكَازِ الْحُمُسُ۔اطرافه ٢٣٥٥، ٦٩١٢، ٦٩١٣۔ریح: فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ : رِكَاز سے مراد وہ مال ہے جو زیرزمین ہو۔امام مالک وامام شافعی فقہائے حجاز میں سے ہیں۔عنوانِ باب میں رکاز کی تعریف میں ان دونوں اماموں کا حوالہ اس لیے دیا گیا ہے کہ فقہائے عراق و شام میں سے امام ابو حنیفہ، ثوری اور اوزاعی رحمہم اللہ نے رکاز میں معدنیات کو بھی شمار کیا ہے۔جیسا کہ عنوانِ باب میں وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ کہہ کر ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ان کی دلیل کو لغت سے رڈ کیا ہے۔امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ اَز كَرَهُ الرَّجُلُ اُس وقت کہا جاتا ہے؛ جب کوئی شخص زمین میں سونے کے ٹکڑے پائے۔اس لئے رکاز میں معدن بھی شامل ہو سکتی ہے۔اس کا امام بخاری نے یہ جواب دیا ہے کہ ارمر کے معنی یہ بھی ہیں کہ کسی شخص نے بہت نفع حاصل کیا۔اَرُكَزَ الشَّجَرُ درخت بہت پھل لایا۔اَرْكَزَ الرَّجُلُ آدمی کو ہبہ ملا یعنی مفت میں عطا کیا گیا تو پھر رکاز میں اس اشتراک معنوی کی وجہ سے نفع پھل و ہبہ سب کو شامل کرنا ہوگا۔مگر علامہ عینی نے امام ابوحنیفہ کی مدافعت کرتے ہوئے مجمع الغرائب اور نہا یہ ابن اثیر کا حوالہ دیا ہے کہ رکاز اور معدن ایک ہی ہیں۔(عمدہ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۰۰) ثُمَّ نَاقَضَ : یعنی امام ابوحنیفہ نے اپنے اس فتویٰ کے خلاف اجازت دی ہے کہ کوئی شخص اگر محتاج ہو تو معدن سے حاصل شدہ سونے چاندی کا پانچواں حصہ بجائے بیت المال کو دینے کے استعمال میں لاسکتا ہے۔اس اجازت کے یہ معنی ہیں کہ نہ زکوۃ نکالے اور نہ پانچواں حصہ دے۔زکوۃ خالص بیت المال کا حق ہے۔کسی فرد کا حق نہیں کہ وہ خود گھر بیٹھے فیصلہ کر لے کہ فلاں مال پر اتنی زکوۃ واجب ہوتی ہے اور چونکہ وہ خود محتاج ہے؛ اس لئے اسے استعمال کر سکتا۔ا ہے۔امام بخاری نے اس نقطہ نظر سے اسے ناجائز قرار دیا ہے۔جمہور کی دلیل یہ ہے کہ اگری کاز اور معدن سے کان ہی مراد ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم واو عاطفہ سے ان دونوں کا الگ الگ ذکر نہ فرماتے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں حدیث صلى الله وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ فِي الْمَعْدِنِ جُبَارٌ وَفِى الرِّكَازِ الْخُمُس کا حوالہ دے کر جمہور کی دلیل قبول کی ہے۔جبار کے معنے بلا تاوان یعنی اگر کان کے گرنے یا پھٹنے سے کارکن ہلاک ہو جائیں تو تاوان کا دعوی نہیں کر سکتے۔لیکن مالک معدن اپنی خوشی سے ہلاک شدہ کے اقرباء کو دے سکتا ہے۔