صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 149
صحيح البخاری جلد۳ ۱۴۹ ٢٤ - كتاب الزكاة الْحُمُسُ وَلَيْسَ الْمَعْدِنُ بِرِكَازِ وَقَدْ یا بہت اس میں پانچواں حصہ ہے اور کان رکاز نہیں قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کان میں کام الْمَعْدِنِ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْحُمُسُ کرتے ہوئے جو کسی حادثہ سے مر جائے، اس کے وَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنَ لئے کوئی تاوان نہیں اور مالِ دفینہ میں پانچواں حصہ الْمَعَادِنِ مِنْ كُلِّ مِائَتَيْنِ خَمْسَةٌ وَقَالَ ہے اور عمر بن عبدالعزیز نے کہا: کانوں میں ہر دوسو درہم) پر پانچ ( درہم ) ہے اور حسن نے کہا: جو مال اللُّقَطَةَ۔الْحَسَنُ مَا كَانَ مِنْ رِكَازِ فِي أَرْضِ یہ دارالحرب میں ہو، اس میں پانچواں حصہ ہے اور الْحَرْبِ فَفِيْهِ الْحُمُسُ وَمَا كَانَ مِنْ جو دار السلم ( یعنی صلح اور امن کے علاقے میں ) ہو أَرْضِ السّلْمِ فَفِيْهِ الزَّكَاةَ وَإِنْ وَجَدْتَ اس میں زکوۃ ہے اور اگر تو دشمن کے ملک میں گری فِي أَرْضِ الْعَدُةِ فَعَرِفْهَا وَإِنْ پڑی چیز پائے تو اس کی شناخت کروا۔اگر وہ دشمن کی كَانَتْ مِنَ الْعَدُوِّ فَفِيهَا الْحُمُسُ وَقَالَ ہو تو اس میں پانچواں حصہ ہوگا اور بعض نے کہا: کان بَعْضُ النَّاسِ الْمَعْدِنُ رِكَازَ مِثْلُ دِفْنِ بھی زمانہ جاہلیت کے دفینہ کی طرح مال دفینہ ہے۔الْجَاهِلِيَّةِ لِأَنَّهُ يُقَالُ أَرْكَرُ الْمَعْدِنُ إِذَا کیونکہ جب کان سے کچھ { نکالا جائے ہم تو کہا جاتا {خَرَجَ مِنْهُ شَيْءٌ قِيْلَ لَهُ قَدْ يُقَالُ ہے: اَرْكَزَ الْمَعْدِنُ یعنی کان میں سے مال دفینہ لِمَنْ وُهِبَ لَهُ شَيْءٌ أَوْ رَبِحَ رِبْحًا نکالا۔اسے یہ جواب دیا گیا کہ جس کو کوئی چیز بطور كَثِيرًا أَوْ كَثُرَ ثَمَرُهُ أَرْكَرْتَ ثُمَّ نَاقَضَ حصہ دی جائے یا وہ بہت نفع حاصل کرے یا اس کا پھل بہت ہو تو اُسے بھی کہا جاتا ہے: ارگوت یعنی تو وَقَالَ لَا بَأْسَ أَنْ يَكْتُمَهُ فَلَا يُؤَدِّيَ نے مال دفینہ پالیا۔پھر اس نے خود ہی اپنے قول کو رد کیا ہے اور کہا ہے: کوئی حرج نہیں اگر وہ اس کو چھپا الْخُمُسَ۔لے اور پانچواں حصہ نہ دے۔١٤٩٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۴۹۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ) کہا : ( مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب حرج کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں "أُخرج ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۴۵۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔