صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 151
صحيح البخاري - جلد ٣ ۱۵۱ ٢٤ - كتاب الزكاة وَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : ابو عبید نے کتاب الاموال میں سفیان ثوری کے حوالہ سے روایت نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے معدن کو ر کا ز پر قیاس کر کے اس میں پانچواں حصہ وصول کرنے کی ہدایت کی۔پھر اس کے بعد ایک اور پروانہ لکھا کہ نصاب زکوة کے مطابق اس پر وصول کیا جائے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۴۵۹) وَقَالَ الْحَسَنُ۔۔۔ابن ابی شیبہ نے عاصم بن سلیمان احول بصری تابعی کی سند سے حسن بصری کا محولہ بالا قول نقل کیا ہے۔غالباً انہوں نے یہ فرق مال غنیمت پر قیاس کرنے کی وجہ سے کیا ہے جو بلا جنگ و مشقت حاصل ہوں، جن میں پانچواں حصہ ہے۔(الانفال :۲) چونکہ مالِ غنیمت کا تعلق ایسی قوم سے ہے جو برسر پیکار ہے، اس لئے رکا زکو مال غنیمت قرار دینے میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ بحالت دفینہ پایا جائے۔وَإِنْ وَجَدْتَ النُّقْطَة- گری پڑی چیز سے متعلق بھی حسن بصری کا یہی فتویٰ ہے کہ اگر دشمن کی زمین میں پائی جائے اور یہ ثابت ہو کہ برسر پیکار دشمن کی ہے تو وہ مال غنیمت شمار ہوگی اور اُس میں پانچواں حصہ ہے۔عنوانِ باب میں یہ حوالے دینے کے بعد امام موصوف نے جو حدیث نقل کی ہے اُس میں رکاز پر پانچواں حصہ علی الاطلاق دیے جانے کی تصریح ہے۔مذکورہ بالا حوالوں کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۵۸ - ۴۵۹ ر کاز کا نیں ہوں یا مال دفینہ ان میں شمس ہے اور اموال زکوۃ میں سے شمار نہیں ہوں گی۔کیونکہ ان میں نہ نصاب ہے اور نہ ایک سال مدت گزرنے کی شرط اور نہ یہ شرط ہے کہ جامد ہو یا سیال یا منطبع جیسا کہ احناف نے ان کی تقسیم کر کے اول الذکر پر مس عائد کیا ہے اور باقی دو کو اس سے مستقلی قرار دیا ہے۔برخلاف امام شافعی اور امام یوسف کہ ان دونوں کے نزدیک تمام اقسام معد نیات خواہ وہ دھاتیں ہوں یا نمک کی قسم یا جواہر یا سیال چیزیں جیسے پارہ ، لگ اور پٹرول وغیرہ۔ان سب پر بلا استنی خمس ہے اور یہ کہ شمس بھی زکوۃ ہی کی قسم ہے جو رفاہِ عامہ کے لئے مقصود ہے۔یه فقیهانه اختلاف باعتبار وجوب یا عدم وجوب نظر انداز کئے جانے کے لائق ہے۔شمس معد نیات اور دفائن دونوں ہی میں واجب ہے۔رکا ز حکومت کی ملکیت ہے۔امام بخاری نے عنوانِ باب میں اصل مسئلہ کو مذکورہ اختلافات پر مقدم رکھا ہے۔یعنی ہر قسم کی معدنیات ودفائن میں شمس ہے۔اس پر قیاس کیا گیا ہے جو اہر، موتی، عبر اور مچھلیوں وغیرہ کا بشرطیکہ تجارتی غرض سے ہوں اور اسی پر قیاس کیا جائے گا ، پٹرول وغیرہ سیال مواد اور آثار قدیمہ کا جو ہمارے زمانہ میں زمین سے برآمد کئے جاتے ہیں۔حکومت کا فرض ہے کہ ان کا خمس نکالے اور مصارف زکوۃ کے لئے مخصوص کرے۔ایسا ہی افراد بھی دفائن اور معدنیات سے جو وہ حکومت سے ٹھیکہ پر لیتے ہیں ، شمس ادا کریں۔