صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 151 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 151

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۵۱ ٢٤ - كتاب الزكاة وَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ۔۔۔۔ : ابو عبید نے کتاب الاموال میں سفیان ثوری کے حوالہ سے روایت نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے معدن کو رکاز پر قیاس کر کے اس میں پانچواں حصہ وصول کرنے کی ہدایت کی۔ پھر اس کے بعد ایک اور پروانہ لکھا کہ نصاب زکوۃ کے مطابق اس پر وصول کیا جائے ۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۴۵۹) وَقَالَ الْحَسَنُ ۔۔۔۔۔ ابن ابی شیبہ نے عاصم بن سلیمان احول بصری تابعی کی سند سے حسن بصری کا محولہ بالا قول نقل کیا ہے۔ غالباً انہوں نے یہ فرق مال غنیمت پر قیاس کرنے کی وجہ سے کیا ہے جو بلا جنگ و مشقت حاصل ہوں، جن میں پانچواں حصہ ہے۔ (الانفال :(۲) چونکہ مالِ غنیمت کا تعلق ایسی قوم سے ہے جو برسر پیکار ہے، اس ۔ لئے رکاز کو مال غنیمت قرار دینے میں یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ بحالت دفینہ پایا جائے ۔ وَإِنْ وَجَدْتَ النُّقْطَةَ - گری پڑی چیز سے متعلق بھی حسن بصری کا یہی فتویٰ ہے کہ اگر دشمن کی زمین میں پائی جائے اور یہ ثابت ہو کہ برسر پیکار دشمن کی ہے تو وہ مال غنیمت شمار ہوگی اور اُس میں پانچواں حصہ ہے۔ عنوان باب میں یہ حوالے دینے کے بعد امام موصوف نے جو حدیث نقل کی ہے اُس میں رکاز پر پانچواں حصہ علی الاطلاق دیے جانے کی تصریح ہے ۔ مذکورہ بالا حوالوں کے لئے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۵۸-۴۵۹۔ رکان کا نیں ہوں یا مال دفینہ ان میں خمس ہے اور اموال زکوۃ میں سے شمار نہیں ہوں گی۔ کیونکہ ان میں نہ نصاب ہے اور نہ ایک سال مدت گزرنے کی شرط اور نہ یہ شرط ہے کہ جامد ہو یا سیال یا منطبع جیسا کہ احناف نے ان کی تقسیم کر کے اول الذکر پرخمس عائد کیا ہے اور باقی دوکو اس سے مستثنی قرار دیا ہے۔ برخلاف امام شافعی اور امام یوسف کہ ان دونوں کے نزدیک تمام اقسام معد نیات خواہ وہ دھاتیں ہوں یا نمک کی قسم یا جواہر یا سیال چیزیں جیسے پارہ ، لگ اور پٹرول وغیرہ۔ ان سب پر بلا استثنی خمس ہے اور یہ کہ شمس بھی زکوۃ ہی کی قسم ہے جو رفاہ عامہ کے لئے مقصود ہے۔ یہ یه فقیها نه اختلاف با عتبا ر و جوب یا عدم وجوب نظر انداز کئے جانے کے لائق ہے۔ خمس معد نیات اور دفائن دونوں ہی میں واجب ہے۔ رکا زحکومت کی ملکیت ہے۔ امام بخاری نے عنوانِ باب میں اصل مسئلہ کو مذکورہ اختلافات پر مقدم رکھا ہے۔ یعنی ہر قسم کی معدنیات ودفائن میں خمس ہے۔ اس پر قیاس کیا گیا ہے جواہر، موتی، عنبر اور مچھلیوں وغیرہ کا بشرطیکہ تجارتی غرض سے ہوں اور اسی پر قیاس کیا جائے گا، پیٹرول وغیرہ سیال مواد اور آثار قدیمہ کا جو ہمارے زمانہ میں زمین سے برآمد کئے جاتے ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ ان کا خمس نکالے اور مصارف زکوۃ کے لئے مخصوص کرے۔ ایسا ہی افراد بھی دفائن اور معدنیات سے جو وہ حکومت سے ٹھیکہ پر لیتے ہیں ، جس ادا کریں۔