صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 148 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 148

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۴۸ ٢٤ - كتاب الزكاة الْبَحْرِ فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ اسے قرض دیا تھا؛ باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک لکڑی أَسْلَفَهُ فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ ہے۔ اس نے اس کو اپنے گھر والوں کے لئے بطور حَطَبًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَلَمَّا نَشَرَهَا ایندھن کے لے لیا۔ پھر ( راوی نے ) پورا واقعہ بیان وَجَدَ الْمَالَ۔ کیا۔ جب اس کو چیرا تو اُس نے وہ مال پایا۔ اطرافه: ۲۰۱۳، ۲۲۹۱، ۲۴۰۴، ۲۴۳۰ ، ٢٧٣٤، ٦٢٦١۔ تشریح: مَا يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَحْرِ : سمندر سے حاصل کردہ مال پر زکوۃ لینے کے بارے میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ عنوان باب میں اسی اختلاف کی طرف اشارہ اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کے لئے چند حوالے دئے گئے ہیں۔ ان میں سے حضرت ابن عباس کے فتوے کا حوالہ امام شافعی نے اپنی کتاب الام میں بروایت سفیان بن عیینہ اور حسن بصری کا فتویٰ ابو عبید نے کتاب الاموال میں نقل کیا ہے۔ انہوں نے اموال دفینہ پر قیاس کر کے عنبر اور موتیوں میں بھی پانچواں حصہ زکوۃ قرار دی ہے ۔ لیث بن سعد مصری دوسری صدی کے فقہاء میں سے ہیں۔ ان کی روایت کو یہاں عنوان باب میں واو عاطفہ کے ساتھ بطور تعلیق نقل کیا ہے۔ لیکن کتاب البیوع میں یہ موصولا نقل کی گئی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۵۶ - ۴۵۷ ) ان تینوں حوالوں کو عنوان باب میں درج کر کے مسئلہ معنونہ سے متعلق کوئی واضح روایت اس کی تائید میں نہ پیش کرنے سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کو اس بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عنوان باب کو بھی قصداً مبہم رکھا ہے۔ الفاظ فَإِنَّمَا جَعَلَ النَّبِيُّ فِي الرِّكَانِ الْخُمُسَ لَيْسَ فِي الَّذِي يُصَابُ فِی الْمَاءِ سے جو حسن بصری کے حوالہ کے بعد نقل کئے گئے ہیں مذکورہ بالا قیاس رو کرنا مقصود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول اگلے باب میں منقول ہے۔ ( روایت نمبر ۱۴۹۹) موتی، مچھلی وغیرہ اشیاء اگر بصورت تجارت ذریعہ کسب معاش ہوں تو ان پر حق واجب تجارتی حساب سے عائد ہوگا اور مٹی کا تیل پٹرول وغیرہ قسم کی اشیاء معدنیات پر قیاس کی جائیں گی۔ جن میں خمس ادا کرنے کی صراحت ہے؟ نہ زکوٰۃ پر جس کے لئے نصاب اور ایک سال کی مدت ضروری ہے۔ اس تعلق میں اگلا باب بھی ملاحظہ ہو۔ اسرائیلی واقعہ سے صرف اس قدرا شمارہ کرنا مقصود ہے کہ سمندر کی اشیاء بھی دولت پیدا کرنے کا منبع ہیں اور قابل زکوۃ ہیں۔ صلى الله بَاب ٦٦ : فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ر کا ز یعنی مال زیر زمین میں پانچواں حصہ ہے وَقَالَ مَالِكٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ الرِّكَازُ اور مالک اور ( شافعی ) ابن اور لیس نے کہا: رکاز وہ دِفْنُ الْجَاهِلِيَّةِ فِي قَلِيْلِهِ وَكَثِيرِهِ مال ہے جو زمانہ جاہلیت میں گاڑ دیا جاتا تھا۔ تھوڑا ہو