صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 147 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 147

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٤ - كتاب الزكاة پہنچا دے۔افلاس کئی قسم کی ظاہری اور باطنی ناپاکیوں اور بداخلاقیوں کا موجب ہوتا ہے۔جن کا تدارک زکوۃ وصدقات سے کیا گیا ہے۔تقسیم زکوۃ وصدقہ میں اگر یہ مقصد ملحوظ نہ رکھا جائے تو شریعت اسلامی کے اس حکم کی صحیح معنوں میں تعمیل نہ ہوگی۔اس کے مصارف کا دائرہ امت کے کمزور طبقہ پر حاوی ہے؛ جہاں بھی یہ طبقہ پایا جائے۔بَابِ ٦٥ : مَا يُسْتَخْرَجُ مِنَ الْبَحْرِ جو مال سمندر سے نکالا جائے وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عبر مال لَيْسَ الْعَنْبَرُ بِرِكَازِ هُوَ شَيْءٌ دَسَرَهُ دفینہ نہیں ہے۔وہ تو ایک چیز ہے جسے سمندر باہر الْبَحْرُ وَقَالَ الْحَسَنُ فِي الْعَنْبَرِ پھینک دیتا ہے اور حسن نے کہا: عنبر اور موتیوں میں وَاللُّؤْلُ الْحُمُسُ فَإِنَّمَا جَعَلَ النَّبِيُّ پانچواں حصہ زکوۃ ہے۔کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فِي الرِّكَازِ الْخُمُسَ لَيْسَ فِي نے صرف مال دفینہ میں ہی پانچواں حصہ رکھا ہے، نہ الَّذِي يُصَابُ فِي الْمَاءِ۔اس میں جو پانی میں سے ملے۔١٤٩٨ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي :۱۴۹۸ اور لیٹ نے کہا: جعفر بن ربیعہ نے مجھے جَعْفَرُ بْنُ رَبِيْعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بتایا کہ عبد الرحمن بن ہرمز سے مروی ہے۔انہوں نے هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابو ہریرہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ بنی اسرائیل رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْلَ سَأَلَ بَعْضَ میں سے ایک شخص نے کسی اسرائیلی شخص سے ہزار بَنِي إِسْرَائِيْلَ بِأَنْ يُسْلِفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ اشرفی قرض مانگی تو اس نے اس کو وہ دے دیں۔پھر فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ فَلَمْ وه سمندر کو گیا تو اس نے کوئی کشتی نہ پائی۔اس نے يَجِدْ مَرْكَبًا فَأَخَذَ خَشَبَةٌ فَنَقَرَهَا ایک لکڑی لی اور اس کو کھودا اور اس میں ہزار اشرفی رکھ فَأَدْخَلَ فِيْهَا أَلْفَ دِينَارٍ فَرَمَى بِهَا فِي دی اور پھر اسے سمندر میں ڈال دیا۔وہ شخص جس نے العنبر امام شافعی کے نزدیک یہ ایک پودا ہے جو سمندر کی تہہ میں ہوتا ہے۔امام کرمانی کے نزدیک اس سے مراد سمندر کی جھاگ ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۵۶) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۹۶)