صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 146 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 146

صحيح البخاری جلد۳ ۱۴۶ ٢٤ - كتاب الزكاة اہل کتاب کو اسلام سکھانے میں تدریج سے کام لیا جائے اور انہیں سمجھایا جائے کہ زکوۃ کے بارے میں اسلام کی تعلیم کا اصل مقصد کیا ہے۔تُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ سے ہم کی ضمیر کی بنا پر موشگافی اور تخصیص کرنا مناسب نہیں جبکہ قرآن مجید کے ارشاد میں ایسی تخصیص نہیں۔بَاب ٦٤: صَلَاةُ الْإِمَامِ وَدُعَانُهُ لِصَاحِبِ الصَّدَقَةِ امام کا صدقہ دینے والے کے لئے دعا ( دعائے مغفرت و رحمت ) کرنا وَقَوْلُهُ: خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ان کے مالوں سے صدقہ لے صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمُ جس سے تو انہیں ظاہری اور باطنی طور پر پاک اور بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ اِنَّ صَلونَكَ صاف کر دے اور ان کے لئے دعائے مغفرت اور سَكَنُ لَهُمْ (التوبة: ١٠٣) رحمت کر۔یقیناً تیری دعا اُن کے لیے سکینت کا ط۔موجب ہوگی۔١٤٩٧: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۱۴۹۷ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللهِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن مرہ) سے، بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى عمرو نے حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی سے روایت کی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ انہوں نے کہا: جب نبی ﷺ کے پاس بعض لوگ اپنا بِصَدَقَتِهِمْ قَالَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ صدقہ لے کر آتے تو آپ فرماتے : اے اللہ ! فلاں کی فَلَانٍ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اولاد کی اولا د کو خاص رحمت سے نواز۔میرے باپ بھی آپ کے پاس صدقہ لے کر آئے اور آپ نے فرمایا: صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى۔اے اللہ! ابی اوفی کی اولاد کو خاص رحمت سے نواز۔اطرافه ٤١٦٦ ٦٣٥٩٦٣٣٢ تشریح إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَن لَّهُمْ: یہ باب بھی سابقہ مضمون واضح کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی نیابت میں خلیفہ وقت یا امام قوم مامور ہیں کہ مسلمانوں سے زکوۃ وصول کریں اور ان کی ظاہری اصلاح و باطنی پاکیزگی کے لئے جہاں دیگر وسائل اختیار کریں وہاں ان کے لئے دعائیں بھی کریں۔اس لئے صدقات کے بارے میں عدم انتقال کی شرط لگانا اور اس جگہ اسے تقسیم کر دینا؛ جہاں سے وہ حاصل ہوں ؟ یہ درست نہیں۔یہ امام کا فرض منصبی ہے کہ انہیں مناسب طور پر تقسیم کرے یا کرائے تظہیر کا تعلق جسمانی پاکیزگی اور تزکیہ کا باطنی پاکیزگی سے ہے۔حدیث میں آتا ہے: كَادَ الْفَقْرُ أَن يَكُونَ كُفْرًا * قریب ہے کہ محتاجی کفر تک نوبت (العلل المتناهية، كتاب الزهد، حديث في أن الفقر كاد يكون كفرا، روایت نمبر ۱۳۴۶، جز ۲ صفحه ۸۰۵)