صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 145 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 145

صحيح البخاری جلد ۳ الله ٢٤ - كتاب الزكاة أَهْلَ كِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى آپؐ نے ان کو یمن کی طرف بھیجا؟ فرمایا: تم ایسی قوم أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ کے پاس جاؤ گے جو اہل کتاب ہیں۔ جب ان کے مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللَّهِ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا پاس پہنچو تو انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ شہادت دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ لیں تو پھر انہیں یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے اُن پر رات وَلَيْلَةٍ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ دن میں پانچ نمازیں مقرر کی ہیں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو پھر ان کو بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان صَدَقَةٌ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى پر صدقہ (زکوۃ) بھی فرض کیا ہے۔ جو اُن کے فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوْا لَكَ بِذَلِكَ مالداروں سے لیا جائے گا اور ان کے محتاجوں کو دیا فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ جائے گا۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو خیال رکھنا۔ الْمَظْلُوْمِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں ۔ حِجَابٌ ۔ اطرافه: ١٣٩٥ ، ١٤٥٨ ، ٢٤٤٨ ، ٤٣٤٧، ۷۳۷۱، ۷۳۷۲۔ تشريح : تُرَدُّ فِي الْفُقَرَاءِ حَيْثُ كَانُوا : حدیث نمبر ۱۳۹۶ کے الفاظ تُوعَدُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتَرَةٌ عَلَى فُقَرَائِهِمْ کی بناء پر فقہاء کے درمیان ایک جگہ سے دوسری جگہ صدقہ منتقل کئے جانے کے بارہ میں اختلاف ہوا ہے۔ امام ابو حنیفہ اسے جائز قرار دیتے ہیں ۔ مگر امام مالک، امام شافعی اور جمہور کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ جس جگہ سے صدقہ لیا جائے ؟ اسی جگہ کے محتاج باشندوں میں تقسیم کیا جائے ۔ شوافع صرف اس حالت میں انتقال صدقہ جائز سمجھتے ہیں جب اس جگہ مستحقین نہ ہوں جہاں سے صدقہ جمع کیا گیا ہے۔ (فتح الباری جزء ۳ صفحہ۴۵۰) امام بخاری نے الفاظ حَيْثُ كَانُوا سے اس امر کی تصریح کردی ہے کہ تقسیم زکوۃ کو کسی جگہ سے مخصوص کرنا منشائے شریعت کے منافی ہے۔ صدقہ محتاجوں کے لئے ہے جہاں بھی ہوں ۔ عنوان باب میں اَغْنِيَائِهِمْ اور فُقَرَائِهِمْ کی ضمیریں حذف کر کے الْأَغْنِيَاءَ اور الْفُقَرَاءَ کے الفاظ اختیار کرنے سے بھی یہی واضح کرنا مقصود ہے کہ مطلق دولت مند اور محتاج مراد ہیں جہاں کہیں بھی ہوں ۔ مسلمان ہوں یا غیر مسلم - آیت إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ میں بھی فقراء اور مساکین من حیث العموم مراد ہیں ۔ علاوہ ازیں مندرجہ بالا روایت سے بھی ظاہر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت معاذ کو یہ اختیار نہیں دے رہے ۔ رہے تھے کہ زکوۃ اہل یمن سے لے کر وہیں اسے تقسیم کر دینا، بلکہ آپ نے انہیں یہ تلقین فرمائی ہے کہ