صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 143 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 143

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳ ٢٤ - كتاب الزكاة تدارک فرمایا۔دوسری طرف اس وہم کا بھی ازالہ فرمایا کہ صدقہ فی ذاتہ ایسی چیز ہے جس کا کھانا معیوب ہے۔آپ نے اسے بطور ہدیہ قبول فرمایا اور خود طلب کر کے کھایا تا لوگوں میں بلا وجہ اس کے استعمال سے خوف یا کراہت پیدا نہ ہو۔مگر آپ کے اس اسوۃ حسنہ کے برعکس عام طور پر مسلمانوں میں صدقہ کا گوشت استعمال کرنے کے بارے میں وہم پایا جاتا ہے۔نیز بعض لوگ تکبر سے بھی صدقہ کا گوشت نہیں کھاتے۔آپ نے اپنے اس اسوہ حسنہ سے ہر بات میں افراط و تفریط کی اصلاح فرمائی ہے۔بَابِ ٦٢ : إِذَا تَحَوَّلَتِ الصَّدَقَةُ جب صدقہ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلا جائے ١٤٩٤: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۱۴۹۴ علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا يَزِيْدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ ) کہا : ( يزيد بن زریع نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) حَفْصَةَ بِنْتِ سِيْرِينَ عَنْ أُمّ عَطِيَّةَ خالد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حفصہ بنت سیرین الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ سے حفصہ نے حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ هَلْ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور آپ عِنْدَكُمْ شَيْءٍ فَقَالَتْ لَا إِلَّا شَيْءٌ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی شئے ہے؟ حضرت بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْنَا نُسَيْبَةُ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي عائشہ نے کہا: کچھ نہیں سوائے گوشت کے جو ہمیں بَعَثْتَ بِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ نیہ نے اس بکری سے بھیجا ہے جو آپ نے اس کو صدقے کے مال سے دی تھی۔آپ نے فرمایا: وہ بَلَغَتْ مَحِلُّهَا۔اطرافه: ١٤٤٦، ٢٥٧٩۔اپنے ٹھکانے پہنچ چکی ہے۔١٤٩٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ۱۴۹۵: یحی بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وکیع نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) شعبہ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيُّ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے