صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 142
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۳ ٢٤ - كتاب الزكاة بِلَحْمٍ فَقُلْتُ هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى نبی ﷺ کے پاس گوشت لایا گیا۔ میں نے کہا: یہ وہ گوشت بَرِيْرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ۔ ہے جو بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے تو آپ نے فرمایا: اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ۔ اطرافه: ٤٥٦، ٢١٥٥ ، ٢١٦٨، ٢٥٣٦ ، ٢٥٦٠، ٢٥٦١، ٢٥٦٣، ٢٥٦٤، ٢٥٦٥، ،٥٢، ٥٢٨٤۷۹ ،۵۰۹۷ ،۲۷۳۵ ،۲۷۲۹ ،۲۷۲ ،۲۷۱۷ ،٢٥٧٨ ٥٤٣٠، ٦٧١٧، ٦٧٥١، ٦٧٥٤، ٦٧٥٨ ، ٦٧٦٠ تشريح : الصَّدَقَةُ عَلَى مَوَالِي أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ﷺ : موالی مولی کی جمع ہے۔ اس کے معنے ہیں دوست اور مددگار ۔ اسلامی معاشرے میں یہ لفظ آزاد کردہ غلام کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ آزاد شدہ کنیز (لونڈی) کو مولاۃ کہتے ہیں۔ یہ باب ایک روایت کی وجہ سے قائم کیا ہے جو تر مذی اور ابن حبان وغیرہ نے صحیح قرار دی ہے اور وہ یہ ہے: إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لَنَا وَإِنَّ مَوَالِيَ الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ یعنی ہمارے لئے صدقہ جائز نہیں ۔ قوم کے موالی (یعنی آزاد کردہ غلام یا متعاہد دوست ) انہی میں سے ہیں۔ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل اور بعض مالکیوں اور شافعیوں نے بھی اسی کے مطابق فتوی دیا ہے۔ مگر جمہور اس کے خلاف ہیں۔ اُن کے نزدیک چونکہ شمس کی تقسیم نسیم میں موالی شریک نہیں کئے گئے ، اس لئے وہ ذوی القربیٰ میں شمار نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۴۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج سے متعلق بھی فقہاء نے اختلاف کیا ہے کہ آیا وہ آلِ نبی میں شریک ہیں یا نہیں؟ گو روایت نمبر ۱۴۹۳ کے الفاظ لَنَا هَدِيَّةٌ (وہ ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ ) دلالت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل بیت کو ذوی القربی ہی میں شریک رکھا ہے۔ اس لئے امہات المومنین کی حرمت بھی ویسی ہی ہے جیسی آل نبی کی ۔ ازواج مطہرات کا الگ ذکر نہ کرنے سے بھی یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ امام موصوف کے نزدیک آپ کے اہل بیت بھی مشار الیہ حرمت میں شریک ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس پاک نمونہ سے جہاں حقیقۃ الامر کا اظہار فرمایا ہے۔ وہاں نفس کی ایک بیماری کا بھی علاج کیا ہے۔ آپ نے اپنی اولاد کو صدقہ سے اس لئے منع فرمایا کہ ان کی نگاہ ان مالوں پر نہ ہو جو محتاجوں کے لئے مخصوص ہیں اور علو نفسی اور سیر چشمی جیسے خصائل حمیدہ کے خوگر ہوں اور ان اخلاق سے محفوظ رہیں جو اس طبقہ کے گھرانوں میں سرایت کر جاتے ہیں ، جنہیں کسی مقدس شخصیت سے نسبت ہوتی ہے۔ آج کل پیروں، گدی نشینوں اور سید کہلانے والے خاندانوں کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اس خطرہ کا (ترمذی، کتاب الزكاة، باب ما جاء في كراهية الصدقة للنبي وأهل بيته ومواليه (صحيح ابن حبان، کتاب الزكاة، باب مصارف الزكاة، ذكر الزجر عن أكل الصدقة المفروضة لآل محمد، روایت نمبر ۳۲۹۳، جزء ۸ صفحه ۸۸)