صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 141
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۴۱ بَاب ٦١ : الصَّدَقَةُ عَلَى مَوَالِي أَزْوَاجِ النَّبِي نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے غلاموں کو صدقہ دینا ٢٤ - كتاب الزكاة على الله ١٤٩٢ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ۱۴۹۲ : سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا ، (کہا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ عبد الله ) بن وہب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ نے کہا: ) عبید اللہ بن عبداللہ نے حضرت ابن عباس وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةَ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ مَيِّتَةً أُعْطِيَتْهَا مَوْلَاةً لِمَيْمُونَةَ مِنَ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مری ہوئی الصَّدَقَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بکری دیکھی جو حضرت میمونہ کی لونڈی کو صدا صدقہ دے صلى الله عروسة وَسَلَّمَ هَلَّا انْتَفَعْتُمْ بِجِلْدِهَا قَالُوْا إِنَّهَا دی گئی تھی ۔ نبی ﷺ نے فرمایا تم نے اس کی کھال سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایا ؟ انہوں نے کہا: وہ تو مردار مَيْتَةً قَالَ إِنَّمَا حَرُمَ أَكْلُهَا ۔ تھی ۔ آپ نے فرمایا: اس کا کھانا ہی حرام ہے ۔ اطرافه ۲۲۲۱، ٥٥٣١، ٥٥٣٢ ١٤٩٣ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۴۹۳ : آدم ( بن ابی ایاس ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ (کہا:) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) حکم ( بن عتبہ ) الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِي بَرِيْرَةَ لِلْعِتْقِ نے اسود سے، اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ بریرہ کو آزاد کرنے کے لئے وَأَرَادَ مَوَالِيْهَا أَنْ يَشْتَرِطُوا وَلَاءَهَا فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ خریدنا چاہتی تھیں اور اس کے مالکوں نے چاہا کہ اس شرط پر کہ اس کے ترکے کے وہ حق دار ہوں گے۔ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو وَسَلَّمَ اشْتَرِيْهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے خرید لو۔ قَالَتْ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ ترکہ تو اس کا ہوتا ہے جو آن کا ہوتا ہے ہے جو آزاد کرے۔ کہتی تھیں :