صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 140 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 140

صحيح البخاری جلد۳ " ۱۴۰ ٢٤ - كتاب الزكاة رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی ترقی کے لئے اپنی ہی قربانی نہیں کی بلکہ اپنی آئندہ نسل کی بھی قربانی کی ہے اور یہ قربانی نہایت عظیم الشان قربانی ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ بڑی بڑی قربانیاں کر دیتے ہیں۔لیکن ان قربانیوں کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اُن کی اولاد کو فائدہ پہنچ جائے۔پس اولاد کی قربانی اکثر اوقات اپنی قربانی سے بھی شاندار ہوتی ہے۔آپ نے اس قربانی کا بھی نہایت شاندار نمونہ دکھایا ہے۔چنانچہ آپ نے حکم دیا ہے کہ صدقات کا مال میری اولاد کے لئے منع ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا دانا انسان اس امر کو خوب سمجھ سکتا تھا کہ زمانہ یکساں نہیں رہتا۔میری اولاد پر بھی ایسا وقت آ سکتا ہے اور آئے گا کہ وہ لوگوں کی امداد کی محتاج ہو گی۔لیکن باوجود اس کے آپ نے فرما دیا کہ میری اولاد کے لئے صدقہ منع ہے گویا ایک ہی رستہ جو غرباء کی ترقی کے لئے کھلا ہے؟ اسے اپنی اولاد کے لئے بند کر دیا اور اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ آپ نے خیال فرمایا کہ اگر صدقہ میری اولاد کے لیے کھلا رہا تو اسرائیلی نبیوں کی اولاد کی طرح میری اُمت کے لوگ بھی میرے تعلق کی وجہ سے صدقہ میری اولاد کو ہی زیادہ تر دیں گے اور مسلمانوں کے دوسرے غرباء تکلیف اُٹھائیں گے۔پس آپ نے دوسرے مسلمان غرباء کو تکلیف سے بچانے کے لئے اپنی اولا د کو صدقہ سے محروم کر دیا اور گویا دوسرے مسلمانوں کی خاطر اپنی اولاد کو قربان کر دیا۔یہ کس قدر قربانی ہے اور کیسی شاندار قربانی ہے۔اگر مسلمان اس قربانی کی حقیقت کو سمجھیں تو سادات کو کبھی تنگ دست نہ رہنے دیں۔کیونکہ اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے مسلمانوں کی خاطر اپنی اولاد کو قربان کیا ہے۔مسلمانوں کا بھی فرض ہے کہ اس قربانی کے مقابلہ میں ایک شاندار قربانی کریں اور جس دروازہ کو صدقہ کی شکل میں بند کیا گیا ہے اسے ہدیہ کی شکل میں کھول دیں۔“ دنیا کا حسن- انوار العلوم، جلده اصفحہ ۳۰۷)