صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 139
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۹ ٢٤ - كتاب الزكاة کے اقرباء کا جو حصہ رکھا گیا ہے (الانفال: ۴۲) اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل قریش میں سے سوائے بنو ہاشم و بنو عبدالمطلب کے اور کسی کو شریک نہیں کیا اور یہ حصہ در حقیقت عطیہ ہے صدقہ نہیں۔ بلکہ صدقہ کے عوض میں دیا گیا ہے۔ ( کیونکہ انفال کے معنے عطیے کے ہیں۔) امام مالک دو امام ابو حنیفہ نے صرف بنو ہاشم ہی کو آل میں شمار کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۴۶) دوسری بات یہ کہ آیا ز کوۃ وغیرہ کی کوئی صورت ایسی بھی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے لئے جائز ہو؟ كُلُّ مَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ہر بھلائی صدقہ ہے تو کیا زکوۃ سے آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ اور قرضہ دینا بھی نا۔ جائز ہوگا ؟ امام شافعی و امام احمد بن حنبل نے زکوۃ ، صدقہ فطر اور ایسے صدقہ کو جو محتاجوں کے لئے ہو؛ صرف انہی کے لئے مخصوص کیا ہے اور باقی صورتیں ہدیہ، نذرانہ وغیرہ کی سادات کے لئے جائز رکھی ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۴۴۶) دینے تیسری بات یہ کہ آل نبی آپس میں ایک دوسرے کو صدقہ دے سکتے ہیں یا نہیں؟ امام ابو یوسف نے ان کا آپس میں صدقہ لینا دینا جائز قرار دیا ہے۔ کیونکہ وہ سب ہم رتبہ ہیں۔ مالکیوں نے زکوۃ کے سوا باقی صدقات آپس میں لینے جائز قرار دئے ہیں۔ امام ابو حنیفہ نے بھی اسے جائز قرار دیا ہے۔ بشرطیکہ ان میں سے کوئی ذی القربی کے حصے سے کسی بناء پر محروم ہو۔ غرض ائمہ کے اس قسم کے اختلافات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امام بخاری نے جو روایت پیش کی ہے اس میں صدقہ اور اپنی آل کے لئے مطلق ممانعت صدقہ کا ذکر ہے۔ یہی روایت نمبر ۱۴۸۵ میں گزر چکی ہے۔ اس میں زکوۃ کی صراحت ہے۔ عنوان باب کے الفاظ مَا جَاءَ أَوْ مَا يُذْكَرُ بھی قابل توجہ ہیں جو مہم ہیں۔ انفال یعنی مال غنیمت کی تقسیم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل شامل ہے۔ مگر فی الحال اسلامی نظام حکومت قائم نہیں ؛ اس لئے بعض ائمہ نے حالات بدلنے کی صورت بھی قابل تبدیل قرار دی ہے اور زکوۃ کے مصارف میں ان کے نزدیک سادات بھی ان کی اقتصادی حالت کی اصلاح کی غرض سے مثل دیگر حاجت پیر حاجت مندوں کے شریک کئے جاسکتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کا اس بارہ میں یہی فتویٰ ہے ۔ (الدر المختار، کتاب الزكاة، باب المصرف، جزء ثانی) ائمہ میں سے ایک فریق نے ادب و احتیاط کا پہلو مد نظر رکھتے ہوئے یہ مشورہ دیا ہے کہ سادات تحصیل زکوۃ و صدقات کے لئے بطور کارکن مقرر کئے جاسکتے ہیں۔ اس صورت میں مال زکوۃ سے اُن کو جو کچھ دیا جائے گا وہ زکوۃ نہیں بلکہ معاوضہ عمل ہوگا۔ عنوانِ باب میں امام بخاری نے اپنی کسی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا ارشاد کے پیش نظر احتیاط کا پہلو اختیار کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ فقہاء کی آراء کو اپنے اپنے موقع محل پر قابلِ عمل سمجھتے ہیں۔ اس تعلق میں ایک نہایت ہی قابل قدر را قابل قدر رائے کتاب ”دنیا کا محسن سے نقل کرنے کے لائق ہے۔ جس کا اظهار حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے۔ یہ رائے فتوی کی شکل بھی رکھتی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم الشان الشان احسانات کے بارے میں گہرے شعور اور احساس کی بھی ترجمان ہے۔ آپ فرماتے ؟ ہیں :- (مسلم، كتاب الزكاة، باب بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف)