صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 138
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۸ ٢٤ - كتاب الزكاة کیسے عائد ہو سکتا ہے؟ اگر بائع نے مشتری سے یہ سمجھوتہ کر لیا ہو کہ اس پر جو صدقہ واجب الادا ہے اس کو مشتری ادا کر دے اور قیمت سے کاٹ لے تو یہ جائز ہے۔اپنا صدقہ خریدنا جائز نہیں۔لیکن غیر کا صدقہ خریدنے میں کوئی حرج نہیں۔اپنا صدقہ خریدنے میں کئی قسم کی قبیح صورتیں پیدا ہونے کا احتمال ہے۔مثلا قیمتی شئے سستے دام خرید لی۔اس قسم کے لالچ میں حیل شرعیہ کے نام سے بہانے تراشے گئے ہیں تا حدود شریعت کی پابندیاں آسانی سے توڑی جاسکیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شریعت حقہ کی حرمت اور اس کی اصلی صورت و شکل قائم رکھنے کے لئے ہر وہ راہ بند کر دی ہے جس سے نفس امارہ کو حیلہ سازی کا موقع مل سکتا ہو۔روایت نمبر ۱۴۹۰،۱۳۸۹ کا مضمون تقریباً ایک ہی ہے، بجز اس فرق کے کہ پہلی روایت کی سند حضرت ابن عمر تک پہنچتی ہے اور دوسری حضرت عمر تک۔باب ٦٠ : مَا يُذْكَرُ فِي الصَّدَقَةِ لِلنَّبِي وَآلِهِ } { نبی صلی اللہ علیہ وسلم { اور آپ کی آلہ کے لئے صدقہ سے متعلق جو ذ کر کیا جاتا ہے ١٤٩١: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۴۹۱: آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ) کہا : ( شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) محمد بن هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَخَذَ زیاد نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے الْحَسَنُ بْنُ عَلِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيْهِ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجوروں فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِخَ میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔اس كِخْ لِيَطْرَحَهَا ثُمَّ قَالَ أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخ آخ۔تاکہ وہ اسے پھینک دے۔پھر فرمایا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہم نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ۔اطرافه: ١٤٨٥، ٣٠٧٢۔تشریح: صدقہ کا مال نہیں کھایا کرتے۔الله مَا يُذْكَرُ فِي الصَّدَقَةِ لِلنَّبِي علي وَآلِهِ : عنوانِ باب میں فقہاء کے اس اختلاف کی طرف اشارہ ہے جو اُن کے درمیان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اولاد کو صدقہ دیے جانے کے بارے میں ہوا ہے اور یہ تین باتوں میں ہے۔جیسا کہ امام ابن حجر نے اس کی تشریح کی ہے۔اوّل یہ کہ آل سے مراد صرف آپ کی ذریت ہے یا بنو ہاشم اور بنو مطلب بھی اس میں شامل ہیں؟ امام شافعی نے کہا ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم میں آپ لفظ " وآله فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ ۴۴۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔