صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 137 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 137

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۷ ٢٤ - كتاب الزكاة أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بکتے ہوئے دیکھا اور خرید نا چاہا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتَأْمَرَهُ فَقَالَ لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ کے پاس آئے اور آپ سے اجازت چاہی۔ آپ فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ الله نے فرمایا: اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔ اس لئے حضرت عَنْهُمَا لَا يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ ابن عمر رضی اللہ عنہا اگر اس چیز کو خرید لیتے جس کو وہ صدقہ میں دے چکے ہوتے تو اسے (اپنے پاس ) نہیں بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً۔ اطرافه: ۲۷۷۵، ۲۹۷۱، ۳۰۰۲ رکھتے تھے؛ بلکہ ضرور اس کو صدقہ میں دے دیتے۔ ١٤٩٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۴۹۰: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ ( کہا :) مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زید ابْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بن اسلم سے، زید نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ حَمَلْتُ عَلَی انہوں نے کہا۔ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: اللہ کی راہ میں میں نے ایک گھوڑا فَرَسٍ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَأَضَاعَهُ الَّذِي سواری کے لئے دیا۔ جس کے پاس وہ تھا اس نے اس كَانَ عِنْدَهُ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَهُ وَظَنَنْتُ کو خراب کر دیا۔ میں نے اس کو خریدنا چاہا اور میں نے أَنَّهُ يَبِيعُهُ بِرُخْصٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى خیال کیا کہ وہ اسے ستا بچے گا۔ اس لئے میں نے نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا تَشْتَرِ وَلَا تَعُدْ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: اسے فِي صَدَقَتِكَ وَإِنْ أَعْطَاكَهُ بِدِرْهَم فَإِنَّ مت خرید و اور اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔ خواہ وہ تجھ کو الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْتِهِ۔ ایک درہم ہی میں دے۔ کیونکہ اپنے صدقے کو لوٹانے والا ایسا ہی ہے جیسے اپنی کے چاٹنے والا ۔ اطرافه: ٢٦٢٣، ٢٦٣٦، ۲۹۷۰، ۳۰۰۳ تشريح : نَهَى الْمُتَصَدِّقَ خَاصَّةٌ عَنِ الشَّرَاءِ وَلَمْ يَنْهَ غَيْرَهُ : گزشتہ باب کی بناء پر ایک بار یک سوال اُٹھایا گیا ہے کہ ایک شخص جو کھجوروں کا بہ شخص جو کھجوروں کا باغ خریدتا ہے؟ اگر اس پر صدقہ ں پر صدقہ واجب ہے تو گویا وہ صدقہ کو بھی ساتھ خریدتا ۔ ا ساتھ خریدتا ہے اور یہ جائز نہ ہوگا۔ مگر یہ قیاس ایک قسم کا غلو ہے؛ کا غلو ہے؛ جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔ فرماتا ہے: يأهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُو فِي دِينِكُمْ (النساء: ۱۷۲) اے اہل کتاب! اپنے دین میں غلونہ کرو۔ روایت نمبر ۱۴۹۰،۱۴۸۹ میں اپنے صدقہ کو خریدنے کی ممانعت ہے۔ ہے۔ جو چیز قبضہ میں نہیں اور اس پر سال نہیں گزرا اس با گزرا اس میں خریدنے والے پر صدقہ