صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 136
صحيح البخاری جلد۳ تشریح ۱۳ ٢٤ - كتاب الزكاة فَلَمْ يَحْظُرِ الْبَيْعُ بَعْدَ الصَّلَاحِ عَلَى أَحَدٍ: الفاظ فَلَمُ يَحْضُرِ الْبَيْعُ بَعْدَ الصَّلَاحِ : عَلَى أَحَدٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک پھلوں میں پختگی ظاہر ہونے کے بعد پھل یا فصل یا اناج بیچنا جائز ہے۔خواہ اس میں زکوۃ واجب ہو۔امام شافعی اندازہ کرنے کے بعد اس کا بچنا جائز نہیں سمجھتے ، کیونکہ اس میں مسکینوں کا حق ہے۔ان کے نزدیک اگر کوئی اندازہ کرنے کے بعد بیچتا ہے تو بیع باطل ہوگی۔امام ابوحنیفہ کے نزدیک مشتری کا اختیار ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کا ذمہ لے اور قیمت میں سے کاٹ لے۔امام مالک کے نزدیک یہ بائع کا فرض ہے کہ زکوۃ ادا کرے سوائے اس کے کہ مشتری سے سمجھوتہ کیا جائے۔امام احمد بن حنبل نے بھی بائع ہی کا فرض قرار دیا ہے۔فقہاء کی طرف سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا کسی چیز کی بیچ سے اس کی واجب شدہ زکوۃ ساقط ہو جائے گی؟ اس کا جواب عنوان باب ہی میں دیا گیا ہے کہ وہ ساقط نہیں ہوگی۔اندازہ کے مطابق بائع کو اپنے دوسرے مال سے ادا کرنا چاہیے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۴۳) وَلَمْ يَخُصَّ مَنْ وَّجَبَ عَلَيْهِ الزَّكَاةُ : بیچ کے لیے زکوۃ کا واجب ہونا یا نہ ہونا شرط نہیں، بلکہ پھلوں کی پختگی شرط ہے۔اس امر کی طرف توجہ مبذول کرانے کی غرض سے لفظ تُرهِيَ کی تشریح لفظ تَحْمَار سے کی گئی ہے۔بَابِ ٥٩ : هَلْ يَشْتَرِيْ صَدَقَتَهُ کیا اپنے صدقہ کو خریدے؟ وَلَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِيَ صَدَقَةَ غَيْرِهِ اور اس میں حرج نہیں کہ دوسرے کا صدقہ خریدے۔لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف صدقہ دینے الشّرَاءِ والے ہی کو خاص کر خریدنے سے منع فرمایا ہے، نَهَى الْمُتَصَدِّقَ خَاصَّةً عن دوسرے کو منع نہیں فرمایا۔وَلَمْ يَنْهَ غَيْرَهُ۔١٤٨٩: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۱۴۸۹ یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ لیٹ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے عقیل نے شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے روایت کی رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ که حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتے تھے ابْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيْلِ که حضرت عمر بن خطاب نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ ثُمَّ ایک گھوڑا بطور صدقہ دیا۔پھر انہوں نے اسے