صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 131 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 131

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۱ ٢٤ - كتاب الزكاة تشريح : لَيْسَ فِيْمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقِ صَدَقَةٌ: وسق حجازی قول کے مطابق من ۵ سیر ہوتا ہے۔ ۵ وسق کا اندازہ تقریباً اکیس من ہے۔ جمہور کے نزدیک یہ نصاب زکوة ان خوردنی زرعی اجناس کا ہے جو قابل ذخیرہ ہیں ۔ ( بیج کا ذخیرہ زکوۃ سے مستثنیٰ ہے۔ ) عام حالات میں کم از کم غلہ جو ایک خاندان کی خوراک کے لئے مکتفی ہو سکتا ہے، اسے شریعت نے بطور حد مقرر کیا ہے۔ اس حد سے زیادہ ہو تو اجناس واجب زکوٰۃ ہوں گی ورنہ نہیں۔ اس حد بندی کی رو سے شریعت کا منشاء ظاہر ہے کہ ٹیکس لگانے میں ان غرباء کا خیال رکھا جائے ، جن کی زرعی پیداوار بمشکل اُن کے لئے کافی : لئے کافی ہو سکتی ہے۔ سابقہ باب میں زرعی پیداوار والی زمین ن پیدا وار والی زمین کی قسموں کا ذکر ہے۔ ایک بارانی زمین جس کی آبپاشی بارش یا قدرتی وسائل سے ہو، اس میں زکوۃ عشر یعنی دسواں حصہ ہے اور دوسری قسم چاہی یعنی وہ زمینیں جن کی آبپاشی کنوؤں وغیرہ سے ہو۔ اس میں زکوۃ بیسواں حصہ ہے۔ یہ سوال کہ زرعی حاصلات پر عشر یا نصف عشر وصول کرنے میں مذکورہ بالا نصاب ( پانچ وسق ) ملحوظ رکھا جائے گا یا بارانی حاصلات زرعی کا دسواں اور چاہی یا نہری کا بیسواں حصہ وصول کیا جائے گا۔ جہاں تک نصاب کا تعلق ہے، ائمہ ثلاثہ تو متفق ہیں کہ محاصل زرعی پر جو نصاب سے زیادہ ہوں زکوۃ عائد ہوگی۔ لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک نصاب ملحوظ رکھنا ضروری نہیں بلکہ پیداوار کا دسواں یا بیسواں حصہ زکوۃ ہوگی ، قطع نظر اس سے کہ وہ پانچ وسق سے کم ہو یا زیادہ۔ عنوان باب کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ امام بخاری جمہور کے ساتھ متفق ہیں اور امام ابو حنیفہ کی رائے کے خلاف ۔ جن کی دلیل ا یہ ہے کہ ۵ وسق نصاب کا تعین کھجوروں کے پھل سے متعلق ہے اور یہ خاص حکم ہے اور دوسرا حکم زرعی پیداوار سے متعلق ہے جو عام ہے اور بطور قاعدہ کلیہ۔ اور خاص حکم بطور استثناء ہوگا جو مخصوص اور معین صورت میں ہی قبول کیا جائے گا۔ سابقہ باب میں اسی استدلا میں اسی استدلال کے کمزور ہونے کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے کہ ان دونوں حکموں میں کوئی تعارض نہیں ہے جو ایک حکم دوسرے حکم کی وجہ سے ترک کیا جائے بلکہ ان میں عموم و خا جائے بلکہ ان میں عموم و خصوص کا فرق ہے۔ ایک میں ایجاز ہے اور دوسرے میں تفصیل ہے۔ زرعی محاصل کی زکوۃ کے تعلق میں فقہاء کے درمیان ایک اور اختلاف ہوا ہے کہ آیا ہر قسم کی زرعی پیدوار قابل زکوۃ ہے یا صرف وہ جو قابل ذخیرہ خوراک کی جنسیں ہیں۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک تمام اجناس پر زکوۃ ہو گی خواہ خوردنی ہوں یا غیر خوردنی۔ تازہ پھل اور پھول اور سبزی ترکاریاں، گھاس، سرکنڈا اور ایندھن وغیرہ سب پر دسواں یا بیسواں حصہ زکوۃ عائد ہوگی؛ جبکہ وہ ذریعہ کسب معاش ہوں۔ لیکن امام احمد بن حنبل اور امام شافعی کے نزدیک صرف خوردنی قابل ذخیرہ اشیاء پر زکوۃ ہو گی جس پر ایک سال گزر جائے ۔ امام مالک نے بھی تمام اجناس پر زکوۃ عائد قرار دی ہے خوردنی ہوں یا غیر خوردنی ۔ اس اختلاف کے تعلق میں محفوظ رائے یہ ہے کہ جو اشیاء مثلاً سبزی ترکاری ، پھل وغیرہ ذاتی استعمال کے لئے ہوں اور وہ پھول دار پودے جو آرائش کی غرض سے ہوں زکوۃ سے مستثنیٰ ہوں گی اور باقی اشیاء جو قابل ذخیرہ اور قابل اندازہ ہوں اور تجارت کے لئے مقصود ہوں ، ان میں نصاب کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ یعنی یہ کہ ۵ وسق یا ۵ وسق سے