صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 132
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۲ ٢٤ - كتاب الزكاة زیادہ ہوں تو ان پر زکوۃ عائد ہوگی ؛ بحساب عشر یا نصف عشر - الدِّينُ يُسر - دینی امور میں آسانی کی راہ اختیار کرنا پسندیدہ ہے۔(دیکھئے کتاب الایمان باب ۲۹ ۳۲۹) حکومت کی طرف جو لگان کا طریق رائج ہے اس میں نصاب ملحوظ نہیں۔وہ زمین اور اس کی قسم اور آبپاشی کے طریق کے لحاظ سے ایک نسبت مقرر کرتی ہے۔قطع نظر اس سے کہ پیداوار کتنی ہے۔اگر چہ آمدنی ٹیکس میں آمد کی ایک حد مقرر ہوتی ہے۔مگر اس کے علاوہ دیگر ٹیکسوں کو غور سے دیکھا جائے تو ان میں کوئی سے مستثنی نہیں۔خواہ وہ اشیاء اندرون ملک کی پیدا وار ہوں یا بیرونِ ملک کی۔اس قسم کے ٹیکسوں کی آمدنی کا جو مصرف ہے اس سے غریب طبقہ کی غربت دور کرنا مقصود بالذات نہیں۔بلکہ نظم ونسق اور سیاست عامہ سے متعلقہ امور سلطنت کی سرانجام دہی زیادہ تر مد نظر ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رعایا میں اکثریت فلاکت زدہ ہے۔گونا گوں ٹیکسوں اور لگانوں سے نیز سود درسود کے طریق کاروبار سے رعایا زیر بار ہوتی چلی جارہی ہے اور موجودہ نظام حکومت میں سرمایہ داری کو فروغ ہے۔اس کے برعکس نظام شریعت میں زکوۃ کے مصرف کا منشاء و مقصود واضح طور پر معین ہے۔یعنی فقر و فاقہ اور غربت و مسکنت کا دور کرنا۔یہ غرض مقدم ہے باقی تمام اغراض پر۔چنانچہ نصاب کی تعیین بھی اسی غرض کی وجہ سے ہے کہ افراد کی ضروریات کا تحفظ ہو۔حکومتیں جس طریق پر ٹیکس تجویز کرتی ہیں، اس میں یہ غرض مد نظر نہیں اور نہ ان کے پیش نظر احتساب یعنی رضائے الہی یا تزکیہ نفس ہے اور نہ اس حکومتی نظام میں اطاعت یعنی خوشی نفس سے بجا آوری کی وہ روح کارفرما ہوتی ہے جو نظام شریعت کی اطاعت میں ہوتی ہے اور نہ جبر و اکراہ کے طریق میں انسان کا امتیاز بحیثیت بالا رادہ ہستی قائم رہتا ہے۔بَاب ٥٧ : أَخْذُ صَدَقَةِ التَمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ کھجور کے پھلوں کی کٹائی کے وقت زکوۃ لینا وَهَلْ يُتْرَكُ الصَّبِيُّ فَيَمَسُّ تَمْرَ الصَّدَقَةِ اور کیا بچے کوز کو ۃ کی کھجور میں چھو نے دی جائیں؟ ١٤٨٥ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ :۱۴۸۵ عمر بن محمد بن حسن اسدی نے ہم سے بیان الحَسَنِ الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا کیا، کہا : میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا۔إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ (انہوں نے کہا: ) ابراہیم بن طہمان نے ہمیں بتایا۔زيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ انہوں نے محمد بن زیاد سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ قَالَ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالتَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کے پھلوں کی