صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 129
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۲۹ ٢٤ - كتاب الزكاة سیراب کریں۔ گویا امام موصوف نے ان روایتوں کی طرف اشارہ کر کے ان کی صحت قبول کی ہے اور یہ امر روایت مندرجہ بالا سے بھی واضح ہے ۔ أَوْ كَانَ عَشَرِيًّا ۔۔۔ عشری وہ درخت یا فصلیں ہیں جنہیں زمین کا پانی بوجہ قریب ہونے کے کفایت کرے۔ وہ جڑوں کے ذریعے ضرورت کے مطابق پانی حاصل کرتے ہیں۔ بعض جگہ پانی دور ہوتا ہے اور نباتات کی جڑیں کافی پانی جذب نہیں کر سکتیں اور مرجھا جاتی ہیں۔ وَلَمْ يَرَ ۔۔۔ فِي الْعَسَلِ شَيْئًا : عنوانِ باب میں شہد پر زکوۃ نہ لینے کے بارے میں جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ موطا امام مالک میں موصولاً مروی ہے۔ ابو بکر بن حزم کو جبکہ وہ منی میں تھے، عمر بن عبدالعزیز نے لکھا کہ گھوڑے اور شہد پر زکوۃ نہ لی جائے ۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الزكاة، باب ماجاء فی صدقة الرقيق والخيل والعسل) اس کے خلاف عبدالرزاق نے ایک روایت نقل کی ہے۔ جس میں عمر بن عبدالعزیز کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ انہوں نے عروہ بن محمد سعدی کو شہد پر زکوۃ لینے کی اجازت دی۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب الزكاة، باب صدقة العسل، روایت نمبر ۱۹۶۸ ، جزء ۴۰ صفحه ۱۳) یہ روایت کمزور ہے۔ مندرجہ حوالہ سے اس کارڈ کرنا مقصود ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۴۳۸) ترندی میں حضرت ابن عمر کی یہ روایت منقول ہے : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي الْعَسَلِ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَزْقٍ زق ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس مشکیزہ شہد میں ایک مشکیزہ۔ (ترمذی، کتاب الزكاة، باب ماجاء في زكاة العسل) اسی طرح ابوداؤد میں مندرجہ روایت عمر و بن شعیب سے پایا جاتا ہے کہ قبیلہ بنی مستعان کے ایک شخص ہلال نامی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سَلْبَہ وادی کا جنگل اس غرض سے ا۔ روادی کا جنگل اس غرض سے اپنے لئے حاصل کیا کہ اس سے شہد حاصل کرے اور وہ دسواں حصہ زکوٰۃ دے گا اور حضرت عمرؓ کے عہد خلافہ عہد خلافت میں بھی وہ جنگل اسی شرط پر اُس کے نام رہا ۔ (اب كتاب الزكاة، باب زكاة العسل) اس مضمون میں حضرت سعد بن ابی ذباب دوسی کی روایت بھی ملتی ہے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور مسلمان ہوئے ۔ وہ اپنی قوم کے امیر بنائے گئے۔ انہوں نے اُس سے شہد کا عشر وصول کیا۔ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں بھی وہ شہد پر محشر وصول کرتے رہے۔ اُن کا کا بیان ہے کہ میں نے اپنی قوم ے کہا: فِي الْعَسَلِ زَكَاةٌ فَإِنَّهُ لَا خَيْرَ فِي مَالِ لَا يُزَكَّى۔ یعنی شہد میں بھی زکوۃ ہے۔ کیونکہ جس مال کی زکوۃ نہ دی جائے ، اُس میں کوئی برکت نہیں۔ مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الزكاة، باب في العسل هل فيه زكاة أم لا، روایت نمبر ۱۰۰۵۳، جزء ۲ صفی ۳۷۳) (عمدۃ القاری جزء 4 صفحہ اے ) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر جنگلی مکھیوں کا تھا۔ جس کی تیاری میں خود آدمی کو کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی ۔ ورنہ بعض فقہاء کے نزدیک لکھیاں پال کر جو شہد تجارتی غرض سے حاصل کیا جاتا ہے اس پر تجارت کا حکم عائد ہوگا۔ یعنی خرچ منہا کر کے حسب نصاب زکوۃ واجب ہوگی ۔ (ابو داؤد مذکورہ بالا مسئلہ میں امام بخاری کو ان کی کڑی شرائط صحت کے مطابق کوئی مستند روایت نہیں ملی ۔ بموجب آیت أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ ۔ (البقرة : (۲۶۸) اے ایماندارو! جو کچھ تم نے کمایا ہے، اس میں سے پاکیزہ چیزیں اور اُس میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا ہے حسب توفیق خرچ کرو۔