صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 128
صحيح البخاری جلد۳ ۱۳۸ ٢٤ - كتاب الزكاة عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ زُہری سے، ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ بن عمر ) سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ ) رضی اللہ عنہ سے، قَالَ فِيْمَا سَفَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ انہوں ن نبی ﷺ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: جسے آسمان اور چشمے پانی دیں یا جو خود بخو د سیراب ہو۔اس كَانَ عَتَرِيًّا الْعُشْرُ وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ میں (زکوۃ ) دسواں حصہ ہوگی اور جو کنوئیں سے پانی نِصْفُ الْعُشْرِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا نکال نکال کر سینچی جائے، اس میں بیسواں حصہ۔تَفْسِيْرُ الْأَوَّلِ لِأَنَّهُ لَمْ يُوَفَّتْ فِي الْأَوَّلِ ابوعبداللہ ( بخاری ) نے کہا: یہ (حدیث) پہلی (حدیث) يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ فِيْمَا سَقَتِ کی تشریح ہے۔کیونکہ پہلی (یعنی حضرت ابوسعید خدری السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَبَيْنَ فِي هَذَا وَوَقَتَ کی حدیث میں زکوۃ کی مقدار مقرر نہیں کی گئی۔اس وَالزِيَادَةُ مَقْبُوْلَةٌ وَالْمُفَسَّرُ يَقْضِيْ (حدیث) سے مراد ( سالم بن عبداللہ ابن عمر کی حدیث عَلَى الْمُبْهَم إِذَا رَوَاهُ أَهْلُ الثَّبَتِ كَمَا ہے کہ جس کھیتی کو آسمان پانی پلائے اس میں دسواں حصہ ہے اور اس میں کھول کر بیان کیا گیا ہے اور مقدار رَوَى الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسِ أَنَّ النَّبِيَّ مقرر کی گئی ہے اور زیادہ ( تفصیل ) مقبول ہے اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَلِّ فِي جس بات میں تشریح ہو وہ مبہم بات کا فیصلہ کر دیتی الْكَعْبَةِ وَقَالَ بِلَالٌ قَدْ صَلَّى فَأُخِذَ ہے، جبکہ اس کو ثقہ روایت کریں۔جیسا کہ حضرت بِقَوْلِ بِلَالٍ وَتُرِكَ قَوْلُ الْفَضْلِ۔فضل بن عباس کی روایت کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی اور حضرت بلال نے کہا: آپ نے پڑھی۔تو حضرت بلال کی بات قبول کی گئی اور حضرت فضل کی بات چھوڑ دی گئی۔تشریح الْعُشْرُ فِيْمَا يُسْقَى مِنْ مَّاءِ السَّمَاءِ وَبِالْمَاءِ الْجَارِي : اناج اور پھلوں کی زکوۃ کے بارے میں اتفاق ہے کہ بارانی کھیت کے حاصلات میں دسواں حصہ اور جو کنوئیں وغیرہ کے پانی سے سینچے جائیں ، ان کے حاصلات میں بیسواں حصہ زکوۃ ہے۔روایت نمبر ۱۳۸۳ میں بارانی کے علاوہ چشموں سے سیراب ہونے والے کھیتوں کا بھی ذکر ہے۔مگر امام بخاری نے عنوانِ باب میں الْمَاءُ الْجَارِی کے الفاظ بطور تشریح اختیار کئے ہیں۔بعض روایتوں میں جنہیں ابوداؤد نے قبول کیا ہے ، یہ الفاظ آتے ہیں : فَيْمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ۔(ابوداؤد، کتاب الزكاة، باب صدقة الزرع ) یعنی ان زمینوں کی پیداوار میں جنہیں بارش، دریا اور چشمے