صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 127 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 127

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۲۷ ٢٤ - كتاب الزكاة نہ اس واقعہ سے کوئی مسئلہ معین طور پر اخذ کیا جا سکتا ہے، بجز اس کے کہ یہ سمجھا جائے کہ جہاں فریقین کو اطمینان ہو تو وہ باہمی رضا مندی سے لین دین میں لین دین میں تخمینہ کو ہی معیار قرار دے کو ہی معیار قرار دے سکتے ہیں۔ امام بخاری نے باب کا عنوان مصدر یہ قائم کر کے اس مسئلہ کو جواز یا عدم جواز سے مقید مقید نہیں کیا۔ ایسی تمام روایتیں جن میں حضرت عبداللہ بن رواحہ کو خیبر کی غیر پختہ کھجور ھجوریں یا حضرت عتاب بن اسید کو غیر پختہ انگور اندازہ کر کے اُن کے عوض پختہ کھجوریں یا منفی لینے کی اجازت کا ذکر ہے۔ امام موصوف اور امام مسلم کے نزدیک مستند نہیں ۔ (بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الثالثة، الفصل الخامس المسئلة الثانية تقدير النصاب بالخرص) كُلُّ بُسْتَانٍ عَلَيْهِ حَائِطٌ فَهُوَ حَدِيقَة ۔۔۔۔ : حدیقہ کی مذکورہ بالا تشریح بھی بے محل نہیں ۔ امام موصوف نے اسی ضمن میں فقہاء کے ایک اور اختلاف کی طرف اشارہ کر کے اس تشریح سے اُس کا جواب دیا ہے۔ بعض روایتوں میں کھجور اور بعض میں انگور کے تخمینہ کرنے کا ذکر آتا ہے۔ اس لئے فقہاء میں سے ایک گروہ نے کھجوروں کا اور دوسرے گروہ نے کھجور اور انگوروں کا اور تیسرے گروہ نے ہر ایک پھل کا تخمینہ کرنے کے بارے میں جواز کا فتوی دیا ہے ۔ ( فتح الباری، جزء ۳ صفحه ۴۳۶ - ۴۳۷) امام بخاری نے حدیقہ کی تشریح کرتے ہوئے پھلوں کی ساری اقسام شامل کی ہیں۔ روایت نمبر ۱ ۱۴۸ میں جس باغ کا ذکر ہے اُس میں کسی ایک پھل کی تخصیص نہیں۔ صلى الله وَقَالَ سُلَيْمَانُ عَنْ سَعد ۔۔۔۔۔۔ اس حوالہ سے روایت: ایت مذکورہ بالا کے متصل ہونے کو ثابت کرنا مقصود ہے۔ یعنی یہ روایت موقوف نہیں۔ عمارہ بن غزیہ کی سند ، عمرو بن کی مازنی کی سند ( روایت نمبر ۱(۱۴۸) سے مختلف ہے۔ اس میں عباس ساعدی؛ حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت کرتے ہیں جو مرسل ہے۔ مگر دوسری روایت میں عباس ساعدی اپنے باپ حضرت سہل ساعدی سے روایت کرتے ہیں، جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ إِنِّي مُتَعَجِلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ : ابو اسماعیل ترندی نے سلیمان سے یہی روایت ایوب بن سلیمان سے بسند ابو بکر بن ابی اولیس نقل کی ہے۔ اس میں اس امر کی تصریح ہے کہ آنحضرت علی نے شہر میں داخل ہونے کے لئے نزدیک تر راستہ اختیار کیا جسے طریق غراب کہتے تھے اور عام راستہ چھوڑ دیا۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۳۶) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۶۷) بَاب ٥٥ : الْعُشْرُ فِيْمَا يُسْقَى مِنْ مَّاءِ السَّمَاءِ وَبِالْمَاءِ الْجَارِي جو بارانی کھیتی ہو اور جو کھیتی بہتے پانی سے سینچی جائے، دونوں میں دسواں حصہ ہے وَلَمْ يَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْعَسَلِ شَيْئًا۔ اور عمر بن عبدالعزیز شہد میں (زکوۃ ) نہیں سمجھتے تھے۔ ١٤٨٣ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ۱۴۸۳ : سعيد بن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبِ قَالَ أَخْبَرَنِي عبد اللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ یونس بن یزید نے مجھے بتایا۔ انہوں نے (ابن شہاب )