صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 126 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 126

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۴۶ ٢٤ - كتاب الزكاة ابْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ سعید سے مروی ہے۔ انہوں نے عمارہ بن غزیہ سے، عَبَّاسٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عمارہ نے عباس ( بن سہل بن سعد الساعدی) سے، عباس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے نبی صلی اللہ وَنُحِبُّهُ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ كُلُّ بُسْتَانِ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے: احد عَلَيْهِ حَائِطٌ فَهُوَ حَدِيقَةً وَمَا لَمْ يَكُنْ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ ابو عبد الله ( بخاری ) نے کہا: جس عَلَيْهِ حَائِطٌ لَمْ يُقَلِّ حَدِيقَةٌ۔ باغ کے اردگرد چار دیواری ہو اُسے (عربی میں ) حدیقہ کہتے ہیں اور جس کی چار دیواری نہ ہو اُسے حدیقہ نہیں کہتے ۔ تشریح : خَرْصُ التَّمْرِ: پھل اور ان کی تحصیل زکوۃ کے طریق میںبھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ آیا حاصلات کی کمیت معلوم کرنے کے لئے نار لئے ناپ تول سے کام لیا جائے یا تخمینے سے ۔ امام ابو حنیف سے۔ ابو اور اُن کے شاگرد امام یوسف و امام محمد رحمۃ اللہ علیہم تخمینہ کو باطل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک صاحب مال پر واجب ہے کہ اصل پیداوار کا دسواں حصہ زکوۃ نکالے خواہ تخمینہ زیادہ ہو یا کم ۔ لیکن جمہور علماء نے اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ جس میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ وغیرہ کو خیر بھیجا کرتے اور وہ کھجوروں کے پھل کا اندازہ کیا کرتے تھے۔ اس روایت کی بنا پر بعض فقہاء کی رائے ہے کہ پھل کا اندازہ کرنا جائز ہے۔ جن فقہاء نے تخمینہ کو باطل قرار دیا ہے، ان کے نزدیک روایت کے بالمقابل اصول شریعت ترک کرنا جائز نہیں۔ خصوصاً جبکہ یہ ثابت ہے کہ اہل خیبر سے وصولی از قبیل زکوۃ نہ تھی بلکہ بٹا لوۃ نہ تھی بلکہ بٹائی کی قسم سے تھی۔ جیسے آجکل مالک اور مزارعین کے درمیان ہوتی ہے اور حضرت عبداللہ بن رواحہ اندازہ کر کے انہیں اختیار دیتے کہ یہ میرا اندازہ ہے۔ اِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِي۔ (بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الثالثة فى معرفة كم تجب الفصل الخامس فى نصاب الحبوب والثمار، المسئلة الثانية تقدير النصاب بالخرص) یعنی چا ہو تو تم لے لو ورنہ میں لے لوں گا۔ وہ پھل جو ابھی کچے ہوں اور جن کے تلف ہو جانے کا احتمال ہو اُن کا نظری تخمینہ کر کے ان کے عوض پختہ کھجوریں معین مقدار میں ناپ تول کر لینا ان فقہاء کے نزدیک یہ مزابنہ کی صورت ہے جو جائز نہیں ۔ مزابنہ اس خرید و فروخت کو کہتے ہیں جس میں ایک ہی جنس کا مبادلہ ہو جبکہ اس کی کیفیت پختگی بھی نا معلوم ہو اور کمیت بھی نامعلوم ۔ یہ سود کی صورت ہے جس سے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرمایا ہے۔ (دیکھئے کتاب البیوع باب۸۲) روایت نمبر ۱ ۱۴۸ سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار اپنے بعض صحابہؓ سے اندازہ کرنے کے لئے فرمایا اور خود بھی اندازہ کیا جو بعد میں صحیح ثابت ہوا۔ مگر یہ اندازہ زکوۃ یا جزیہ وصول کرنے کی خاطر نہ تھا اور