صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 123 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 123

صحيح البخاري - جلد ۳ ۱۳۳ ٢٤ - كتاب الزكاة ہونے کی وجہ جانشین ہونے کی حیثیت سے ، اسلامی حکومت زکوة ، زکوۃ کی تقسیم میں اور افراد امت اتباع سنت کے واجب ہونے کی تقسی سے انفرادی صدقات کی تقسیم میں اس بات کا انتظار نہ کیا کریں کہ محتاج آکر خود مانگیں بلکہ انہیں خود ایسے محتاجوں کا علم رکھنا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عفت و عزت نفس کی اعلیٰ روح جو اس ن روح جو اسلام افراد میں پیدا کرنا چاہتا ہے، پیدا پیدا نہیں ہوگی ۔ بلکہ مٹ جائے گی اور بھیک مانگنے کا سلسلہ وسیع ہوتا چلا جائے گا۔ آج جو مسلمانوں کی ناگفتہ بہ حالت ہے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ احکام اسلام کی بجا آوری میں حد درجہ غفلت وسہل انگاری ہے۔ اسلام قطعی طور پر مانگنے کے اس طریق کو روکتا ہے جو آج کل رائج ہے۔ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ محتاج اپنی محتاجی کو پبلک پر ظاہر نہ ہونے دیں اور فقراء یعنی محتاجوں کی تعریف یہ کرتا ہے کہ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ الله ۔۔۔ جو خدمت دین کے لیے وقف ہوں اور اس وجہ سے کوئی دوسرا کاروبار کر کے صورت معاش پیدا نہ کر سکتے ہوں، یا وہ لوگ جو خدمت دین کرنا چاہتے ہیں مگر تنگ دست ہیں، یا وہ جو جنگ وغیرہ میں بیکار ہو چکے ہیں۔ فِی سَبِیلِ اللہ کا جملہ اپنے معانی و مقاصد کے اعتبار سے بہت وسعت رکھتا ہے اور رفاہ عامہ کے تمام امور پر حاوی ہے، خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی ۔ اسلام رضائے الہی کی خاطر بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے کو بھی فِی سَبِیلِ اللہِ قرار دیتا ہے۔ (روایت نمبر ۵۶) اس لیے اس کے مفہوم کو دو تین شقوں میں محصور کرنا قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی اصطلاح کے خلاف ہوگا ۔ آیت الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ الله میں اس امر کی بھی صراحت ہے کہ قومی وملکی ضرورتیں مقدم کی جائیں۔ وہ زکوۃ کے اموال سے پہلے پوری کی جائیں۔ چنانچہ جب اسلام خطرہ میں تھا تو جہاد کے لئے امیر و غریب دونوں کو اس میں شریک ہونا پڑا تھا اور دونوں کو اس کے لئے تیاری کا حکم ہوا۔ اس لئے غنی و فقیر اور مسکین کی تعریف حالات کے ساتھ بدل جائے گی ۔ وَكَمِ الْغِنَى : امام بخاری کو یہ باب اس وجہ سے بھی قائم کرنے کی ضرورت پیش آئی کہ فقہاء نے یہ بحث اُٹھائی ہے کہ کسی قدر مال و دولت ہو جس پر صدقہ واجب ہونا چاہیے۔ عنوان باب میں وَ كَمِ الْغِنی کہہ کر انہوں نے اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فقہاء کے اس سوال کے جواب میں آیت لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا کا اور روایت نمبر ۱۴۷۶، ۱۴۷۷ کا حوالہ دے کر بھیک مانگنے والوں کو مستحقین زکوۃ کی فہرست سے خارج کر دیا ہے اور آیت الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِیلِ اللہ کا اور روایت نمبر ۱۴۷۹ کے الفاظ لَا يَجِدُ غِنِّى يُغْنِیہ کے حوالہ سے غناء کا تعین کیا ہے کہ اتنی دولت ہو جو اُس کی ضرورت پوری کر سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ محتاج کی یہ تعریف کرتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں رُکے ہوئے ہوں ۔ (لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ احْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ) سبیل اللہ کی بیسیوں صورتیں ہیں اور ہر صورت کے مطابق حاجت مند کی نوعیت جدا ہے۔ مشار الیہ مسئلہ کا یہ حل نہایت معقول ہے ۔ فَجَزَاهُ اللهُ عَنَّا خَيْرًا - امام مالک کا یہی مذہب ہے۔ اس بارے میں کسی فقیہ کی یہ رائے ہے کہ صاحب نصاب ہو کسی کی رائے ہے کہ کھانے پینے کا سامان مہیا ہو ۔ کسی نے چالیس درہم اور کسی نے پچاس درہم کو غنا قرار دیا ہے۔ مگر غنا کی یہ تعریف درست نہیں ۔ (بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الخامسة فيمن تجب له الصدقة الفصل الثانى فى الصدقة التي تقتضى صرفها اليهم) اس موضوع کے بعض دیگر پہلوؤں کے لیے کتاب البیوع باب ۹ و ۱۵ کی تشریح بھی دیکھئے۔