صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 122 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 122

صحيح البخاری جلد۳ ۱۲۲ ٢٤ - كتاب الزكاة اسے غایت درجہ مکروہ فعل قرار دیتا ہے اور اس امر کو ترجیح دیتا ہے کہ انسان محنت مزدوری کر کے اپنی ضرورت کا سامان مہیا کرے۔( روایت نمبر ۱۳۸۰) لیکن اس اعلی تعلیم کے ساتھ اس نے بنی نوع انسان کے اس طبقہ کو نظر انداز نہیں کیا جو جسمانی طور پر کمزور اور معذور ہیں یا جن کی اقتصادی حالت اس قدر خراب ہے کہ کاروبار شروع نہیں کر سکتے اور امداد کے محتاج ہیں یا کسی اور سبب سے معذور ہیں۔امام بخاری نے قَوْلُ اللهِ تَعَالٰی کہہ کر جس آیت کا حوالہ دیا ہے، وہ یہ ہے: لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمُهُمْ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ (البقرة :۲۷۴) یعنی ( یہ مذکورہ بالا صدقات ) اُن محتاجوں کے لئے ہیں جو اللہ کی راہ میں (دوسرے کاموں سے ) رو کے گئے ہیں (یعنی دین الہی کے کاموں پر انہیں سب کاموں سے فارغ کر کے لگا دیا گیا ہے۔) وہ ملک میں (آزادی سے ) آجا نہیں سکتے۔(ایک) بے خبر ( شخص اُن کے سوال سے بچنے کے سبب سے انہیں غنی خیال کرتا ہے۔تم اُن کی ہیئت سے پہچان سکتے ہو۔وہ لوگوں سے لپٹ لپٹ کر سوال نہیں کرتے اور تم جو اچھا مال بھی ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو، اللہ اُس سے یقیناً خوب واقف ہے۔اس آیت سے جملہ لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا الگ کر کے اس کو باب کا عنوان قائم کرنے سے اول یہ سمجھانا مقصود ہے کہ فقیر یا محتاج جنہیں صدقہ با زکوۃ دینے کا حکم ہے، وہ لوگ نہیں جن کا پیشہ مانگنا ہے۔دوم یہ کہ سوال کا لفظ وسعت رکھتا ہے۔اشارہ کنایہ سے بھی انسان اپنی حاجت دوسرے پر ظاہر کر سکتا ہے۔ایسے اظہار سے گو ممانعت نہیں۔مگر پر کرہ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمهم فرما کر اس بات کی تلقین کی ہے کہ مالدار کا یہ فرض ہے کہ ایسے حاجت مندوں کو اپنی دانش وفراست سے شناخت کرے۔کیونکہ ان کی حالت تو زہد و تقویٰ اور حیاء کی وجہ سے یہ ہے کہ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ (البقرة: ۲۷۴) کہ نا واقف انہیں غنی سمجھتا ہے۔اسلام جس طرح متمول افراد کو تلقین کرتا ہے کہ وہ بذات خود اپنے ماحول میں اس بات کا خیال رکھیں کہ در حقیقت کون صحیح معنوں میں محتاج ہے۔اسی طرح حکومت پر بھی یہ فرض عائد کرتا ہے کہ رعایا کی دیکھ بھال کرتی رہے اور از خود محتاج کی حاجت براری کر کے انہیں مانگنے کی لعنت سے بچائے۔اس امر کی طرف خاص طور پر توجہ دلانے کے لئے امام بخاری اس باب کے ضمن میں روایت نمبر ۱۴۷۸ لائے ہیں۔جس کا نفس مضمون سے کوئی تعلق بظاہر معلوم نہیں ہوتا اور شارحین کو اس کے حل کرنے میں دقت محسوس ہوئی ہے۔مگر امام موصوف نے مخصوص طریق بیان کے موافق قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ فَكُبُكِبُوا کہہ کر كَبَّ اور اگب سے متعلق متعدی ولازم کی بحث محض اس لئے اُٹھائی ہے کہ وہ قارئین پر اس حدیث کے لانے کی غرض واضح کریں۔خلاصہ روایت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو (خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ) بعض لوگوں کے متعلق یہ خدشہ ہوتا کہ کہیں وہ ( سوال کرنے کی وجہ سے ) اوندھے منہ آگ میں نہ ڈالے جائیں اور آپ ایسے کو ابتلاء سے بچانے کے لیے خود بخود دیا کرتے تھے۔آپ کے اس عمل میں ہمارے لیے یہ نیک سبق ہے کہ ہم بھی محتاجوں کو مانگنے کے گناہ سے محفوظ رکھیں۔جیسا کہ اُن کا بھی فرض ہے کہ وہ خود بچیں۔ارشاد باری تعالیٰ تَعْرِفُهُمُ کا یہی مقصد ہے کہ خلیفہ وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے