صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 121
صحيح البخاري - جلد۳ ۱۲۱ ٢٤ - كتاب الزكاة يَطُوْفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ پھرے۔ایک دو لقمے اور ایک دو کھجور میں اُس کو وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِن دَر بدر لے جائیں۔بلکہ مسکین وہ ہے جو اتنا مال نہیں الْمِسْكِيْنُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنَى يُغْنِيهِ پاتا کہ اس کی ضرورتوں کو پورا کر دے اور نہ اُس کا وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُوْمُ حال کسی کو معلوم ہو کہ اس کو صدقہ دے اور نہ وہ اُٹھ کر لوگوں سے سوال کرتا پھرتا ہو۔فَيَسْأَلُ النَّاسَ۔اطرافه: ١٤٧٦، ٤٥٣٩۔١٤٨٠ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ :۱۴۸۰: عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا، غِيَاتٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ( کہا ) میرے باپ نے ہم سے بیان کیا۔(اُنہوں نے کہا : ) حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ ہم سے اعمش نے بیان کیا، (کہا: ) ابوصالح ( ذکوان) النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ ثُمَّ يَعْدُوَ أَحْسِبُهُ ابوہریرہ نے نبی ﷺ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: قَالَ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبَ فَيَبِيعَ فَيَأْكُلَ یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی رہی لے۔پھر صبح کو۔میرا وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يُسْأَلَ النَّاسَ۔خیال ہے یوں فرمایا۔پہاڑ کی طرف نکل جائے اور لکڑیاں اکٹھی کرے اور اُن کو بیچے اور کھائے اور صدقہ بھی کرے۔اُس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے مانگے۔اطرافه: ١٤٧٠، ۲۰۷٤، ۲۳۷۱ تشریح: لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا : اگر سوال مطلق منع ہو تو حاجت مند کی حاجت کا علم دوسروں کو نہیں ہوسکتا۔اسلام بھیک مانگنے کو قطعی طور پر بند کرتا ہے اور حکومتوں نے بھی قانونا اسے ممنوع قرار دے دیا ہے۔لیکن نفاذ کمزور ہے۔عہد نبوی نے نہ صرف اس کا نفاذ تزکیہ نفس کے ذریعہ سے کیا۔بلکہ اقتصادی حالات کو اتنا بہتر بنادیا کہ صدقہ قبول کرنے والے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے تھے۔(روایت نمبر ۱۴۱۱) بھیک مانگنے والا کون ہے؟ الَّذِئ تَرُدُّهُ الأكْلَةُ وَالأكَلَتَان ( روایت نمبر ۱۴۷۹،۱۴۷۶) یعنی جو لقمہ لقمہ کے لئے در بدر مارا مارا پھرتا ہے؟ يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا کا بھی یہی مفہوم ہے کہ وہ لوگوں سے لیٹے رہتے ہیں۔یعنی مانگنا اُن کا پیشہ ہو گیا ہے۔قرآنِ مجید نے ایسے لوگوں کو لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ الْحَافًا فرما کر ان محتاجوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے جو صدقات کے مستحق ہیں بلکہ فرماتا ہے: لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أَحْصِرُوا۔۔۔لَا يَسْتَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا۔(البقرة ۲۷۳) یعنی ان محتاجوں کو صدقہ دیا جائے جولوگوں سے نہیں مانگتے۔مانگ کر روزی کمانے سے متعلق اسلام کی تعلیم سخت ہے۔وہ