صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 120 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 120

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۲۰ ٢٤ - كتاب الزكاة يُحَدِّثُ بِهَذَا فَقَالَ فِي حَدِيْثِهِ فَضَرَبَ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ (محمد بن سعد ) سے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ سنا۔ وہ بھی یہی بیان کرتے تھے اور انہوں نے اپنی فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَ كَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقْبِلْ روایت میں یہ کہا: رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ مارا اور أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ۔ میری گردن اور کندھے کے درمیانی حصے کو اپنے ہاتھ میں مضبوط پکڑ لیا اور اُس کے بعد فرمایا : سعد ! ادھر آؤ۔ میں ایک شخص کو دیتا ہوں ۔ (آخر حدیث تک بیان کیا۔) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ فَكُبُكِبُوا ابو عبد الله (بخاری) نے کہا: فَكُبُكِبُوا کا لفظ جو (الشعراء: ٩٥) قُلِبُوا، مُكِيًّا (الملك : ۲۳) (سورۃ الشعراء میں ) آیا ہے اس کے معنی ہیں: اوندھے گرادیئے گئے اور ( سورۃ الملک ) میں جو مکبا کا لفظ أَكَبَّ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعِ عَلَى أَحَدٍ فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ قُلْتَ كَب ہے وہ اب الرَّجُلُ ہے ہے جبکہ اکب کا قفل دوسرے پر واقع نہ ہو۔ (یعنی فعل لازم ہو ) اور جب اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَ كَبَبْتُهُ أَنَا ۔ فعل متعدی ہو تو تو کہے گا: اللہ تعالیٰ نے اُسے اوندھے منہ گرا دیا اور میں نے اُسے اوندھے ( منہ ) گرایا۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ [ ابو عبد اللہ نے کہا: صالح بن کیسان ؛ زہری سے أَكْبَرُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ قَدْ أَدْرَكَ ابْنَ بڑے ہیں اور وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ۔ * } اطرافه: ۲۷۔ ملے ہیں ۔ } ١٤٧٩ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ ۱۴۷۹: اسماعیل بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ کہا: مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابوز ناد سے، عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ ابوزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں کے پاس گھومتا ے یہ عبارت عمدۃ القاری میں روایت نمبر ۱۴۷۸ کے ساتھ جبکہ فتح الباری میں روایت نمبر ۱۴۸۰ کے آخر میں درج ہے۔ عمدة القاری جزء ۹ صفحه ۶۳ ) ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۲۹)