صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 119
صحيح البخاری جلد ۳ 119 ٢٤ - كتاب الزكاة صلى الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْدًا وَأَنَا روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ) رسول اللہ ﷺ نے کچھ صلى الله جَالِسٌ فِيْهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُوْلُ اللهِ لوگوں کو مال دیا اور میں بھی انہی میں بیٹھا ہوا تھا۔ (حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ سعد) کہتے تھے: رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ایک يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَى آدمی کو چھوڑ دیا۔ آپ نے اس کو نہیں دیا اور ان لوگوں میں سے وہی مجھے زیادہ پسند تھا۔ میں رسول اللہ علی رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاس اُٹھ کر گیا اور آپ سے راز میں بار راز بات کی ۔ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ فلاں سے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اللہ کی قسم ! إِنِّي لَأُرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ میں تو اُسے مومن سمجھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا: یا مسلم ۔ فَسَكَتْ قَلِيْلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيْهِ حضرت سعد کہتے تھے: میں تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ اُس کی نسبت جو میر اعلم تھا، اُس نے مجھے بے بس کر وَاللَّهِ إِنِّي لَأُرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا دیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپؐ نے فلاں کو قَالَ فَسَكَتُ قَلِيْلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ کیوں چھوڑ دیا؟ بخدا میں تو اُسے مومن ہی سمجھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یا مسلم - حضرت سعد کہتے تھے : فِيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا لَكَ عَنْ میں تھوڑی دیر خاموش رہا۔ پھر جو حال اُس کا جانتا تھا؟ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ اُس نے مجھ پر غلبہ کیا اور میں نے کہا: یا رسول الله ! تین بار مُسْلِمًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ } إِنِّي آپ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا ہے؟ بخدا میں تو اُسے لأَعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ مومن سمجھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا یا سمی تر خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ۔ یہی ہوا ۔ آپ نے فرمایا: میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔ حالانکہ دوسرا شخص اُس سے زیادہ مجھ کو پیارا ہوتا ہے۔ اس لئے کہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ آگ میں اوندھے منہ نہ گرایا جائے۔ وَعَنْ أَبِيْهِ عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ اور یعقوب نے) اپنے باپ سے، ان کے باپ نے بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي صالح سے ، صالح نے اسماعیل بن محمد سے روایت کی کہ الفاظ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۴۲۹)