صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 117 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 117

صحيح البخاری جلد۳ IIZ ٢٤ - كتاب الزكاة اَمْوَالَهُمُ تَكَثُرا اور مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ دونوں کا مفہوم ایک ہے۔امام مسلم کی روایت معنا درست ہے۔لیکن جواب مَنْ سَأَلَ۔۔۔میں اختلاف ہے۔فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمُرًا کی جگہ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ ہے۔چہرے پر گوشت نہ ہوگا یعنی رونق نہ ہوگی کہ اُس نے مانگ مانگ کر اپنی عزت و آبرو ضائع کر دی۔عالم آخرت میں سلسلہ مجازاۃ اس دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے ہم شکل ہوگا۔( اس ضمن میں دیکھئے روایت نمبر ۱۴۶۰،۱۴۴۳،۱۴۰۷) طبرانی اور ہزار نے حضرت مسعود بن عمرو کی ایک مرفوع روایت نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں: لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يُسْأَلُ وَهُوَ غَنِيٌّ حَتَّى يُخْلَقَ وَجْهُهُ فَلَا يَكُونُ لَهُ عِندَ اللهِ وَجهُ۔(المعجم الكبير للطبراني، من اسمه مسعود، روایت نمبر ۷۹۰، جز ۲۰۰ صفحه ۳۳۳) (فتح الباری جز ہم صفحہ ۴۲۷) یعنی فنی ہو کر مانگنے والے انسان کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی عزت وقدرنہ ہوگی۔وجہ کے معنی وجاہت۔بَاب ٥٣ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى لَا يَتَلُونَ النَّاسَ الْحَاقَّا اللہ تعالیٰ کا فرمانا: وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے (البقرة: ٢٧٤) وَكَمِ الْغِنَى وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور کتنا مال دولتمندی کہلاتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَجِدُ غِنَّى يُغْنِيْهِ { لِقَوْلِ کا فرمانا کہ وہ اتنا مال نہیں پاتا جو اُس کی ضرورت اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا پوری کر دے۔{ جیسا کہ اللہ عز وجل فرماتا ہے: اُن في سَبِيْلِ اللهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا محتاجوں کو دیا جائے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں گھر گئے فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ فَإِنَّ الله ہیں۔ملک میں چل پھر نہیں سکتے۔نا واقف انہیں بوجہ به عَلِيمٌ } (البقرة : ٢٧٤) سوال سے بچنے کے مالدار خیال کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ یقینا اسے خوب جانتا ہے کہ ١٤٧٦ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ :١٤٧٦ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) محمد بن زیاد نے قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُجھے بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حصہ عبارت عمدۃ القاری کے متن کے مطابق ہے۔(عمدۃ القاری جزء 9 صفحہ ۵۹) نیز صحیح بخاری مطبوعہ آرام باغ میں الفاظ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ بھی موجود ہیں۔ترجمہ اس کے مطابق ہے۔