صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 116
صحيح البخاري - جلد۳ 117 ٢٤ - كتاب الزكاة وَجْهِهِ مُنْعَةُ لَحْمٍ۔حالت میں آئے گا کہ اُس کے منہ پر گوشت کی بوٹی بھی نہ ہوگی۔١٤٧٥: وَقَالَ إِنَّ الشَّمْسَ تَدْنُو ۱۴۷۵: اور فرمایا: سورج قیامت کے دن اتنا قریب يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ ہوگا کہ پسینہ کان کے نصف تک پہنچ جائے گا۔لوگ الْأُذُنِ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ اسْتَغَاثُوا بِآدَمَ اس حالت میں ہوں گے کہ وہ حضرت آدم سے فریاد کریں گے۔پھر حضرت موسیٰ سے۔پھر حضرت محمد ثُمَّ بِمُوْسَى ثُمَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔اور عبد اللہ بن صالح) نے وَسَلَّمَ وَزَادَ عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ اپنی روایت میں اتنا بڑھایا۔( کہا : ) لیث نے مجھ سے حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ فَيَشْفَعُ لِيُقْضَی بیان کیا۔انہوں نے کہا: ) ابن ابی جعفر نے مجھ سے بَيْنَ الْخَلْقِ فَيَمْشِي حَتَّى يَأْخُذَ بِحَلْقَةِ بیان کیا: پھر آپ سفارش کریں گے کہ مخلوق کے درمیان الْبَابِ فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اللهُ مَقَاماً فیصلہ کیا جائے۔آپ جا کر دروازے کا کنڈا تھام لیں " مَّحْمُوْدًا يَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ كُلُّهُمْ گے۔اُس دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود پر کھڑا کرے گا۔مجمع کے سب لوگ آپ کی تعریف کریں گے اور وَقَالَ مُعَلَّى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنِ النُّعْمَانِ معلیٰ نے کہا کہ وہیب نے نہیں بتایا۔نعمان بن راشد بْنِ رَاشِدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخي سے مروی ہے۔انہوں نے زہری کے بھائی عبداللہ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ بن مسلم سے عبداللہ بن مسلم نے حمزہ ( بن عبد اللہ ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔انہوں نے سوال کے بارے میں نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْأَلَةِ۔اطرافه ٤٧١٨ تشریح صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی ہی حدیث بیان کی۔مَنْ سَأَلَ النَّاسَ تَكَثُرًا : امام ابن حجر کا خیال ہے کہ باب نمبر ۵۲ کا عنوان روایت مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمُرًا سے ماخوذ ہے جو امام مسلم نے اپنی صحیح میں نقل کی ہے۔(مسلم، كتاب الزكاة، باب كراهة المسألة للناس) ( فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۴۲۷) اس باب میں اسی روایت کی تحقیق و صحیح مد نظر ہے۔جیسا کہ روایت نمبر ۱۴۷۵ کے آخر میں معلیٰ کی روایت کے حوالے سے بھی ظاہر ہے کہ مندرجہ سند کے ساتھ حدیث کا پہلا حصہ (مذکورہ نمبر ۴ ۱۴۷) ہی اصل روایت قرار دیا گیا ہے۔وَقَالَ إِنَّ الشَّمْس۔۔۔۔کا تعلق اس سے نہیں۔یہ روایت الگ ہے۔گویا امام بخاری کے نزدیک مَنْ سَأَلَ النَّاسَ