صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 113
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۱۳ ٢٤ - كتاب الزكاة عہد خلافت میں اُن کا واجبی وظیفہ پیش کرنے پر انہوں نے لینے سے انکار کر دیا۔مَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللهُ : جو سوال سے بچنا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچائے گا۔وَمَنْ يُسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ جو لوگوں سے بے نیاز ہونا چاہے، اللہ اسے بے نیاز کر دے گا۔آج کل مسلمانوں میں اس قد ر مانگنے والے فقیر اور درویش ہیں کہ کسی شہر میں چلے جاؤ ، ان کی کثرت بھیانک نظارہ پیش کرتی ہے۔ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ۔۔۔۔ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا۔(البقرة : ۲۲) یہ ذلت و مسکنت کی مار ان پر اس لئے پڑی کہ انہوں نے نافرمانی کی۔جو ذلیل سے ذلیل تو میں تھیں ، وہ محنت و مزدوری کر کے غنی ہو گئیں۔جو غنی تھیں وہ مزدوری کو خلاف عزت سمجھتے ہوئے محتاج وذلیل ہو گئیں۔اسلام نے زکوۃ وصدقات کا سلسلہ اس لئے نہیں قائم کیا تھا کہ سوالیوں اور فقیروں کی کثرت ہو بلکہ اس لئے کہ جن کے پاس روزی کمانے کے وسائل نہیں ؛ وسائل بہم پہنچا کر وہ کمانے کے قابل بنائے جائیں۔چنانچہ صحابہ کرام نے اسلام کے حکم کی غرض و غایت کو اچھی طرح سمجھا اور اس کے مطابق عمل کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سب غنی ہو گئے اور اُن میں کوئی زکوۃ وصدقہ قبول کرنے والا باقی نہ رہا۔(روایت نمبر ۱۴۱۲) زکوۃ کے مصارف میں مساکین کا طبقہ شامل کیا گیا ہے۔اس سے مراد بالاتفاق وہ لوگ نہیں جو بھیک مانگتے پھریں۔لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِئ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالسَّمْرَتَانِ وَلَكِنِ الْمِسْكِيْنُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنِّى يُغْنِيْهِ وَلَا يُقْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُوْمُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ ( روایت نمبر ۱۴۷۹) یعنی مسکین وہ نہیں ہے جولوگوں کے پاس گھومتا پھرے۔ایک دو لقمے اور ایک دو کھجور میں اُس کو دربدر لے جائیں۔بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس سرمایہ نہیں کہ اپنے معاش کی صورت پیدا کر سکے اور نہ اُس کا حال کسی کو معلوم ہو کہ اس کو صدقہ دے اور نہ وہ اُٹھ کر لوگوں سے سوال کرتا پھرتا ہو۔ہاں اس کی حالت فراست سے معلوم کی جاسکتی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سوال کو بقدر امکان رو نہیں کیا کرتے تھے۔شرم و حیا اور جو دوسخا کے اوصاف حمیدہ سے آپ کی ذات مبارک ستودہ صفات غایت درجہ متصف تھی۔آپ نے اس موقع پر جبکہ آپ کے پاس دینے کے لئے کچھ نہ تھا؛ درد بھرے دل سے ایسی نصیحت فرمائی جس نے بہتوں کو سوال کی احتیاج سے مستغنی کر دیا۔حضرت ابو سعید خدری اور حضرت حکیم بن حزام بھی انہی لوگوں میں سے ہیں۔(اس تعلق میں دیکھئے کتاب الجہاد تشریح باب ۲۴ روایت نمبر ۲۸۲۱) حضرت حکیم بن حزام بعثت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیقوں میں سے تھے اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے۔غزوہ حنین میں قبائل ہوازن کے اموال غنیمت میں سے انہیں بھی ایک سو اونٹ دیئے گئے تھے۔مزید طلب پر ایک سو اونٹ اور دیئے گئے۔اس پر بھی کفایت نہ کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹ اور دیئے اور مذکورہ بالا نصیحت فرمائی۔اس نصیحت کا اُن پر اتنا گہرا اثر ہوا کہ ایک سو اونٹ ہی پر کفایت کی اور آپ کی نصیحت میخ آہنی کی طرح ان کے دل میں گڑ گئی اور انہوں نے قابل رشک نمونہ دکھایا۔(الإصابة - ذکر حکیم بن حزام بن خویلد) (المعجم الكبير للطبرانی ما اسند حکیم بن حزام روایت نمبر ۳۰۸۲، جز ۳۰ صفحه ۱۹) - - وَمَنْ أَخَذَهُ بِاشْرَافِ نَفْسٍ: اشْرَف کے معنے ہیں جھانکا۔اشراف نفس سے مراد یہ ہے کہ ملنے کے