صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 112 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 112

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۱۲ ٢٤ - كتاب الزكاة حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةً حُلْوَةٌ نے آپ سے مانگا۔ پھر آپ نے دیا۔ پھر فرمایا: فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُوْرِكَ لَهُ حَکیم ! یہ مال تو ہرا بھرا میٹھا ہے۔ جس نے اس کو فِيْهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ سخاوت نفس (یعنی) استغناء) سے لیا تو اس کے س کے لئے اس (مال) میں برکت دی جائے گی اور جس نے يُبَارَكْ لَهُ فِيْهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ نفس کے لانچ سے لیا، اس کے لیے اس میں برکت الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ نہیں ڈالی جائے گی اور وہ اسی شخص کی مانند ہوگا جو حَكِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ وَالَّذِي کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا۔ اونچا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا بہتر ہوتا ہے۔ حضرت حکیم کہتے تھے: میں نے کہا: حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يا رسول اللہ ! اُسی کی قسم جس نے آپ کو سچائی دے کر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدْعُو حَكِيمًا إِلَى بھیجا ہے، میں آپ کے سوا کسی سے بھی کچھ نہیں لوں گا یہاں تک کہ دنیا سے چلا جاؤں۔ چنانچہ حضرت ابو بکر الْعَطَاءِ فَيَأْبَى أَنْ يَقْبَلَهُ مِنْهُ ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَاهُ لِيُعْطِيَهُ فَأَبَى أَنْ تو وہ اُن سے وظیفہ لینے سے انکار کر دیتے۔ پھر حضرت يَقْبَلَ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي عمر رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں بلایا کہ انہیں وظیفہ دیں أُشْهِدُكُمْ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى تو بھی انہوں نے انکار کر دیا کہ اُن سے کچھ لیں۔ اس حَكِيمٍ أَنِّي أَعْرِضُ عَلَيْهِ حَقَّهُ مِنْ هَذَا پر حضرت عمر نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت ! میں الْفَيْءِ فَيَأْبَى أَنْ يَأْخُذَهُ فَلَمْ يَرْزَأَ تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں۔ حکیم کو میں ( بیت المال کی ) حَكِيمٌ أَحَدًا مِّنَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُوْلِ اللَّهِ رضی اللہ عنہ حضرت حکیم کو وظیفہ دینے کے لئے بلاتے آمدنی سے اُن کا حق پیش کرتا ہوں اور وہ انکار کرتے ہیں ۔ اُسے نہیں لیتے ۔ چنانچہ حضرت حکیم نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تُوُفِّيَ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوالوگوں میں سے کسی اطرافه: ٢٧٥٠ ، ٣١٤٣، ٦٤٤١۔ سے کچھ نہیں لیا؛ یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے ۔ تشريح : الاسْتِعْفَافَ عَنِ الْمَسْئَلَةِ : مقاصد دین کے لئے مانگنا جائزہے مگراپنی ذات کے لئے نہیں۔ باب نمبر ۵۰ کی پہلی روایت میں نصیحت ہے۔ دوسری و تیسری رو دوسری و تیسری روایت میں محنت مزدوری کہ ت مزدوری کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ چوتھی روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت حکیم بن حزام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیح رت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت پر اس عمدگی سے عمل کیا کہ کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اپنے اپنے